Showing posts with label فرخ جعفری. Show all posts
Showing posts with label فرخ جعفری. Show all posts

Tuesday, 11 May 2021

عبث ہی محو شب و روز وہ دعا میں تھا

 عبث ہی محو شب و روز وہ دعا میں تھا

علاج اس کا اگر درد لا دوا میں تھا

یہ اور بات کہ وہ تشنۂ جواب رہا

سوال اس کا مگر گونجتا فضا میں تھا

ہمیں خبر تھی کہ اس کا جواب کیا ہو گا

مگر وہ لطف جو اظہار مدعا میں تھا

Monday, 26 April 2021

اسے سمجھا بجھا کے ہم تو ہارے

 اسے سمجھا بجھا کے ہم تو ہارے

نہ آیا دل یہ قابو میں ہمارے

سن اے غافل جرس کیا کہہ رہا ہے

پڑا رہ تُو، ہم اپنی رہ سدھارے

کوئی آتا نہیں ہو جب مدد کو

سوا اس کے کوئی کس کو پکارے

Tuesday, 13 April 2021

ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں

 ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں

ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں

ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے

پر کیا کریں کہ پائے سخن درمیاں نہیں

اچھا تو ایک پل کےلیے ہی اٹھا کےدیکھ

اے آسماں! جو بارِ امانت گراں نہیں

Monday, 12 April 2021

کسی بہانے بھی دل سے الم نہیں جاتا

 کسی بہانے بھی دل سے الم نہیں جاتا

خوشی تو جانے کو آتی ہے غم نہیں جاتا

کسی کو ملنا ہو اس سے تو خود ہی چل کر جائے

کہ اپنے آپ کہیں وہ صنم نہیں جاتا

نشانہ اس کا ہمیشہ نشاں پہ لگتا ہے

گو دل کے پار وہ تیرِ ستم نہیں جاتا

خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

 خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

وہاں بھی جائے کہ جس جا گماں نہیں جاتا

بس اپنے باغ  میں محوِ خرام رہتا ہے

کہ خود سے دور وہ سروِ رواں نہیں جاتا

حجاب اس کے مِرے بیچ اگر نہیں کوئی

تو کیوں یہ فاصلۂ درمیاں نہیں جاتا؟

Sunday, 11 April 2021

اب کے جنوں ہوا تو گریباں کو پھاڑ کر

 اب کے جنوں ہوا تو گریباں کو پھاڑ کر

دنیا کو چھوڑ جاؤں گا دامن کو جھاڑ کر

یہ آئینہ فریبِ نظر ہے، بہت نہ دیکھ

اک روز تجھ کو پیش کرے گا بگاڑ کر

مہماں سرائے جاں میں کوئی ٹھیرتا نہیں

جب سے چلا گیا اسے کوئی اُجاڑ کر