عبث ہی محو شب و روز وہ دعا میں تھا
علاج اس کا اگر درد لا دوا میں تھا
یہ اور بات کہ وہ تشنۂ جواب رہا
سوال اس کا مگر گونجتا فضا میں تھا
ہمیں خبر تھی کہ اس کا جواب کیا ہو گا
مگر وہ لطف جو اظہار مدعا میں تھا
عبث ہی محو شب و روز وہ دعا میں تھا
علاج اس کا اگر درد لا دوا میں تھا
یہ اور بات کہ وہ تشنۂ جواب رہا
سوال اس کا مگر گونجتا فضا میں تھا
ہمیں خبر تھی کہ اس کا جواب کیا ہو گا
مگر وہ لطف جو اظہار مدعا میں تھا
اسے سمجھا بجھا کے ہم تو ہارے
نہ آیا دل یہ قابو میں ہمارے
سن اے غافل جرس کیا کہہ رہا ہے
پڑا رہ تُو، ہم اپنی رہ سدھارے
کوئی آتا نہیں ہو جب مدد کو
سوا اس کے کوئی کس کو پکارے
ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں
ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں
ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے
پر کیا کریں کہ پائے سخن درمیاں نہیں
اچھا تو ایک پل کےلیے ہی اٹھا کےدیکھ
اے آسماں! جو بارِ امانت گراں نہیں
کسی بہانے بھی دل سے الم نہیں جاتا
خوشی تو جانے کو آتی ہے غم نہیں جاتا
کسی کو ملنا ہو اس سے تو خود ہی چل کر جائے
کہ اپنے آپ کہیں وہ صنم نہیں جاتا
نشانہ اس کا ہمیشہ نشاں پہ لگتا ہے
گو دل کے پار وہ تیرِ ستم نہیں جاتا
خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا
وہاں بھی جائے کہ جس جا گماں نہیں جاتا
بس اپنے باغ میں محوِ خرام رہتا ہے
کہ خود سے دور وہ سروِ رواں نہیں جاتا
حجاب اس کے مِرے بیچ اگر نہیں کوئی
تو کیوں یہ فاصلۂ درمیاں نہیں جاتا؟
اب کے جنوں ہوا تو گریباں کو پھاڑ کر
دنیا کو چھوڑ جاؤں گا دامن کو جھاڑ کر
یہ آئینہ فریبِ نظر ہے، بہت نہ دیکھ
اک روز تجھ کو پیش کرے گا بگاڑ کر
مہماں سرائے جاں میں کوئی ٹھیرتا نہیں
جب سے چلا گیا اسے کوئی اُجاڑ کر