عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ جس کا سایہ ضیا سے آگے چلا گیا ہے
☆تمام خلقِ خدا سے آگے چلا گیا ہے
میں کس کو آواز دے رہا ہوں دیارِ جاں میں
وہ برق رَو تھا، صدا سے آگے چلا گیا ہے
مِرے بدن کو ابھی صلیبوں سے مت اُتارو
معاملہ اب سزا سے آگے چلا گیا ہے💢
نہ پُوچھ کتنی اذیتوں میں گِھرے ہوئے ہیں
شُمارِ غم انتہا سے آگے چلا گیا ہے💢
یہ کس پہ فیصل ہوائیں حیران ہو رہی ہیں
یہ کون ہے جو خلا سے آگے چلا گیا ہے
فیصل عجمی
No comments:
Post a Comment