Friday, 23 October 2026

وہ جس کا سایہ ضیا سے آگے چلا گیا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ جس کا سایہ ضیا سے آگے چلا گیا ہے

☆تمام خلقِ خدا سے آگے چلا گیا ہے

میں کس کو آواز دے رہا ہوں دیارِ جاں میں

وہ برق رَو تھا، صدا سے آگے چلا گیا ہے

مِرے بدن کو ابھی صلیبوں سے مت اُتارو

معاملہ اب سزا سے آگے چلا گیا ہے💢

نہ پُوچھ کتنی اذیتوں میں گِھرے ہوئے ہیں

شُمارِ غم انتہا سے آگے چلا گیا ہے💢

یہ کس پہ فیصل ہوائیں حیران ہو رہی ہیں

یہ کون ہے جو خلا سے آگے چلا گیا ہے


فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment