Showing posts with label افضال قاسمی. Show all posts
Showing posts with label افضال قاسمی. Show all posts

Wednesday, 8 June 2022

کچھ نہ پوچھو کس طرح کیسے کہاں رہتا ہوں میں

کچھ نہ پوچھو کس طرح، کیسے، کہاں، رہتا ہوں میں

کیف و کم مفقود ہیں اس جا جہاں رہتا ہوں میں

اے تمنا! دیکھ تُو نے ہر جگہ رسوا کیا

اس جگہ سے پھیر لے رُخ اب یہاں رہتا ہوں میں

اک تمہاری ان سُنی نے گُنگ کر ڈالا مجھے

ترک کر دی گفتگو اب بے زباں رہتا ہوں میں

Thursday, 28 April 2022

اقرار تجھ کو سونپ دوں انکار کس کو دوں

 اقرار تجھ کو سونپ دوں انکار کس کو دوں

تجھ کو سکوت بخش دوں گفتار کس کو دوں

لہریں ہیں آسمان پر طوفاں ہے پُر شباب

ملاح راہزن ہوئے،۔ پتوار کس کو دوں

ملتے ہیں کربلاؤں میں ماتم زدہ نفوس

مشکل یہ ہے حسینؑ کا کردار کس کو دوں

Saturday, 10 July 2021

یونہی تری طلب سے کنارا نہیں کیا

 یونہی تِری طلب سے کنارا نہیں کیا

ہم نے سکوتِ حُسن گوارا نہیں کیا

ہم کو بھی اشتیاق تھا، تم بھی تھے منتظر

اور دونوں تھے خموش اشارا نہیں کیا

پڑھ لی جہاں نے خود ہی نظر کی حکایتیں

ہم نے کسی سے ذکر تمہارا نہیں کیا

Wednesday, 30 June 2021

گلشن کو کس بہار کا دیدار ہو گیا

 گلشن کو کس بہار کا دیدار ہو گیا

"کیا آشکار حُسنِ رُخِ یار ہو گیا"

شوخی ادا و ناز سبھی کچھ رہے مگر

اس کا حجاب مانعِ اقرار ہو گیا 

گرنے لگے ہیں آنکھ سے یادوں کے آبشار 

اس دل پہ اس کی یاد کا پھر وار ہو گیا

Monday, 28 June 2021

خال و خد تو کھنچ بھی جاتے ناز و زیبائی نہیں

 خال و خد تو کھنچ بھی جاتے ناز و زیبائی نہیں

"اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

کیا تِری نفرت کے پنجرے سے بھی میں رخصت ہوا

کیا وجہ ہے، کچھ دنوں سے یاد بھی آئی نہیں

وہ کسی کا ہو کے اب یادیں بھی مجھ سے لے گیا

بے وفا کہہ لو، مگر وہ شخص ہرجائی نہیں

شب آ گئی ہے جلنے دے اے ہمنشیں مجھے

 شب آ گئی ہے جلنے دے اے ہمنشیں مجھے

شمع ہوں، انتظار کی عادت نہیں مجھے

بزمِ خیالِ یار میں پنہاں تھے کتنے رنگ

تجھ کو گمان دے گئے سونپا یقیں مجھے

اے طائرِ خیال، متاعِ حیاتِ نَو

کھوئی ہے جس دیار میں، لے چل وہیں مجھے

Sunday, 27 June 2021

تماشا دیکھنے والو تماشا دیکھتے رہنا

 تماشا دیکھنے والو تماشا دیکھتے رہنا 

تمہیں بھی لے کے ڈوبے گا کنارا دیکھتے رہنا

جدائی کا وہ اک منظر ہر اک لمحے نظر میں ہے

بہت مایوس آنکھوں سے کسی کا دیکھتے رہنا

قفس کو توڑ کر اُڑنے کی کوشش کر مِرے طائر

بہت کمزور کرتا ہے سہارہ دیکھتے رہنا

یاد جاناں پھر ہوئی ہے ہمسفر

 یادِ جاناں پھر ہوئی ہے ہمسفر

الاماں، اے دردِ ہجراں! الحذر

سرخ طوفاں، زرد صحرا، بے شجر

دیکھ، اے چشمِ فلک! یہ رہگزر

اک طرف سوزِ دروں مثلِ جحیم

اک طرف دریائے غم ہے چشمِ تر

Saturday, 26 June 2021

آؤ چلو جنوں کا تقاضا نبھائیں گے

آؤ چلو جنوں کا تقاضا نبھائیں گے

صحرا کی ریت بالوں میں اپنے سجائیں گے

 اس بے وفا کا نام لکھیں گے مٹائیں گے

کُھل کر وفا کی موت کا ماتم منائیں گے

دنیا کو یہ عجیب تماشا دکھائیں گے

اشکوں سے سارے دشت کو دریا بنائیں گے

Sunday, 18 April 2021

تم ایسے مجھ میں سمانا کمال کر دینا

 تم ایسے مجھ میں سمانا کمال کر دینا

مِرے وجود کو اپنی مثال کر دینا

کہیں یہ رسم محبت کی ابتدا تو نہیں

تِرا جواب نہ دینا سوال کر دینا

بچھڑ کے مجھ سے اکیلے اداس تم ہی نہیں

مجھے بھی آتا ہے ماضی کو حال کر دینا