کچھ نہ پوچھو کس طرح، کیسے، کہاں، رہتا ہوں میں
کیف و کم مفقود ہیں اس جا جہاں رہتا ہوں میں
اے تمنا! دیکھ تُو نے ہر جگہ رسوا کیا
اس جگہ سے پھیر لے رُخ اب یہاں رہتا ہوں میں
اک تمہاری ان سُنی نے گُنگ کر ڈالا مجھے
ترک کر دی گفتگو اب بے زباں رہتا ہوں میں
کچھ نہ پوچھو کس طرح، کیسے، کہاں، رہتا ہوں میں
کیف و کم مفقود ہیں اس جا جہاں رہتا ہوں میں
اے تمنا! دیکھ تُو نے ہر جگہ رسوا کیا
اس جگہ سے پھیر لے رُخ اب یہاں رہتا ہوں میں
اک تمہاری ان سُنی نے گُنگ کر ڈالا مجھے
ترک کر دی گفتگو اب بے زباں رہتا ہوں میں
اقرار تجھ کو سونپ دوں انکار کس کو دوں
تجھ کو سکوت بخش دوں گفتار کس کو دوں
لہریں ہیں آسمان پر طوفاں ہے پُر شباب
ملاح راہزن ہوئے،۔ پتوار کس کو دوں
ملتے ہیں کربلاؤں میں ماتم زدہ نفوس
مشکل یہ ہے حسینؑ کا کردار کس کو دوں
یونہی تِری طلب سے کنارا نہیں کیا
ہم نے سکوتِ حُسن گوارا نہیں کیا
ہم کو بھی اشتیاق تھا، تم بھی تھے منتظر
اور دونوں تھے خموش اشارا نہیں کیا
پڑھ لی جہاں نے خود ہی نظر کی حکایتیں
ہم نے کسی سے ذکر تمہارا نہیں کیا
گلشن کو کس بہار کا دیدار ہو گیا
"کیا آشکار حُسنِ رُخِ یار ہو گیا"
شوخی ادا و ناز سبھی کچھ رہے مگر
اس کا حجاب مانعِ اقرار ہو گیا
گرنے لگے ہیں آنکھ سے یادوں کے آبشار
اس دل پہ اس کی یاد کا پھر وار ہو گیا
خال و خد تو کھنچ بھی جاتے ناز و زیبائی نہیں
"اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"
کیا تِری نفرت کے پنجرے سے بھی میں رخصت ہوا
کیا وجہ ہے، کچھ دنوں سے یاد بھی آئی نہیں
وہ کسی کا ہو کے اب یادیں بھی مجھ سے لے گیا
بے وفا کہہ لو، مگر وہ شخص ہرجائی نہیں
شب آ گئی ہے جلنے دے اے ہمنشیں مجھے
شمع ہوں، انتظار کی عادت نہیں مجھے
بزمِ خیالِ یار میں پنہاں تھے کتنے رنگ
تجھ کو گمان دے گئے سونپا یقیں مجھے
اے طائرِ خیال، متاعِ حیاتِ نَو
کھوئی ہے جس دیار میں، لے چل وہیں مجھے
تماشا دیکھنے والو تماشا دیکھتے رہنا
تمہیں بھی لے کے ڈوبے گا کنارا دیکھتے رہنا
جدائی کا وہ اک منظر ہر اک لمحے نظر میں ہے
بہت مایوس آنکھوں سے کسی کا دیکھتے رہنا
قفس کو توڑ کر اُڑنے کی کوشش کر مِرے طائر
بہت کمزور کرتا ہے سہارہ دیکھتے رہنا
یادِ جاناں پھر ہوئی ہے ہمسفر
الاماں، اے دردِ ہجراں! الحذر
سرخ طوفاں، زرد صحرا، بے شجر
دیکھ، اے چشمِ فلک! یہ رہگزر
اک طرف سوزِ دروں مثلِ جحیم
اک طرف دریائے غم ہے چشمِ تر
آؤ چلو جنوں کا تقاضا نبھائیں گے
صحرا کی ریت بالوں میں اپنے سجائیں گے
اس بے وفا کا نام لکھیں گے مٹائیں گے
کُھل کر وفا کی موت کا ماتم منائیں گے
دنیا کو یہ عجیب تماشا دکھائیں گے
اشکوں سے سارے دشت کو دریا بنائیں گے
تم ایسے مجھ میں سمانا کمال کر دینا
مِرے وجود کو اپنی مثال کر دینا
کہیں یہ رسم محبت کی ابتدا تو نہیں
تِرا جواب نہ دینا سوال کر دینا
بچھڑ کے مجھ سے اکیلے اداس تم ہی نہیں
مجھے بھی آتا ہے ماضی کو حال کر دینا