Showing posts with label سبط علی صبا. Show all posts
Showing posts with label سبط علی صبا. Show all posts

Saturday, 22 May 2021

لہو میں ڈوب کے تلوار میرے گھر پہنچی

 لہو میں ڈوب کے تلوار میرے گھر پہنچی

وہ سر بلند ہوں دستار میرے گھر پہنچی

پہاڑ کھودا تو جز پتھروں کے کچھ نہ ملا

مِرے پسینے کی مہکار میرے گھر پہنچی

شجر نے تند ہواؤں سے دوستی کر لی

شکستہ پتوں کی بوچھار میرے گھر پہنچی 

Friday, 21 August 2020

تم اپنے بچوں کو آدمیت کے خوں سے رنگیں نصاب دو گے

تم اپنے بچوں کو آدمیت کے خوں سے رنگیں نصاب دو گے
تو آنے والے عظیم کل کے حضور میں کیا حساب دو گے
کبھی تو اندھی عقیدتوں کے حصار مسمار کر کے دیکھو
بتاؤ، صبحِ وطن کو کب تک گہن زدہ آفتاب دو گے
ہم اپنے کچے مکاں کی تاریکیوں میں دم گھٹ کے مر نہ جائیں
نفس نفس اب وبالِ جاں ہے گھٹن کا کب تک عذاب دو گے

Friday, 14 August 2020

جو لوگ اپنے حق کے طلب گار بن گئے

جو لوگ اپنے حق کے طلبگار بن گئے
اہلِ ستم کی راہ میں دیوار بن گئے
صد شکر اپنے دل کو تِرا غم ہوا نصیب
ہم تجھ سے مل کے صاحبِ کردار بن گئے
جب سیلِ درد دل میں ہوا موجزن تو ہم
اظہارِ درد کے لیے فن کار بن گئے

Tuesday, 3 January 2017

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اٹ گئی

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اَٹ گئی
دیوار سے لگی تِری تصویر پھٹ گئی
لمحوں کی تیز دوڑ میں، میں بھی شریک تھا
میں تھک کے رک گیا تو مِری عمر گھٹ گئی
اس زندگی کی جنگ میں ہر اک محاذ پر
میرے مقابلے میں مِری ذات ڈٹ گئی

موسم گل کے لیے بار گراں چھوڑ گئی

موسمِ گل کے لیے بارِ گراں چھوڑ گئی
زرد پتے جو گلستاں میں خزاں چھوڑ گئی
مجھ کو تنہائی کے احساس سے ڈر لگتا ہے
تُو مجھے عمرِ رواں جانے کہاں چھوڑ گئی
تِرا احسان ہے اے فصلِ بہاراں! مجھ پر
جاتے جاتے مِرے ہونٹوں پہ فغاں چھوڑ گئی

میں کوئی حرف غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں
جب بھی آؤں تِری محفل سے اٹھایا جاؤں
ایک ٹوٹا ہوا پتہ ہوں،۔ ٹھکانہ معلوم
جانے کب تک میں فضاؤں میں اڑایا جاؤں
میری تخلیق کا مقصود یہی ہے شاید
آسمانوں سے زمینوں پہ گرایا جاؤں

Saturday, 3 December 2016

ہر ایک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح

ہر ایک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح
رِندوں کی انجمن میں کوئی جائے کس طرح
صحرا کی وسعتوں میں رہا عمر بھر جو گم
صحرا کی وحشتوں سے وہ گھبرائے کس طرح
جس نے بھی تجھ کو چاہا، دیا اس کو تُو نے غم
دنیا ! تِرے فریب کوئی کھائے کس طرح

یہاں وہاں کہیں آسودگی نہیں ملتی

یہاں وہاں کہیں آسودگی نہیں ملتی
کلوں کے شہر میں بھی نوکری نہیں ملتی
جو سوت کاتنے میں رات بھر رہی مصروف
اسی کو سر کے لیے اوڑھنی نہیں ملتی
رہِ حیات میں کیا ہو گیا درختوں کو
شجر شجر کوئی ٹہنی ہری نہیں ملتی

لفظوں میں ڈھال ڈھال کے میں حادثات کو

لفظوں میں ڈھال ڈھال کے میں حادثات کو
ترتیب دے رہا ہوں کتابِ حیات کو
میرا خلوص پاؤں کی زنجیر بن گیا
میرے بدن میں دفن کرو میری ذات کو
ہر آدمی کا نامۂ اعمال ہے سیاہ
کس کے حضور پیش کروں کاغذات کو

Thursday, 27 October 2016

خزاں رہی نہ کبھی موسم بہار رہا

خزاں رہی نہ کبھی موسم بہار رہا
چمن تو گردشِ حالات کا شکار رہا
عجیب رنگ ہے اب کے برس بہاروں کا
نہ گل کھلے نہ کوئی نخلِ سایہ دار رہا
عجیب بات ہے ہم نے کسی سے کچھ نہ کہا
ہجومِ غم میں ہمیں دل پہ اختیار رہا

مکینوں کے لیے اک بوجھ لشکر چھوڑ جاتے ہیں

مکینوں کے لیے اک بوجھ لشکر چھوڑ جاتے ہیں
گرا دیتے ہیں دیواریں، تو پتھر چھوڑ جاتے ہیں
یہ کمسن پھول سے چہرے زمیں کی گود میں سو کر
گھروں میں گھومتے سایوں کے پیکر چھوڑ جاتے ہیں
سُبک رفتار لمحے پھر کبھی واپس نہیں آتے
یہ اَن تھک راہرو، انساں کو اکثر چھوڑ جاتے ہیں

جمود ذہن پہ طاری تھا انقلاب نہ تھا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

جمود ذہن پہ طاری تھا انقلاب نہ تھا
سکونِ قلب کہیں سے بھی دستیاب نہ تھا
حصارِ ظلم کی بنیاد کو اکھاڑ دیا
جہاں میں تجھ سا کوئی بھی تو فتح یاب نہ تھا
کچھ اس لیے بھی تِرے نام کے ہوئے دشمن
تو وہ سوال تھا جس کا کوئی جواب نہ تھا

Saturday, 18 April 2015

حق بات عدالت میں روا ہی نہیں ہوتی

حق بات عدالت میں روا ہی نہیں ہوتی
ماں کے لیے بیٹوں کی گواہی نہیں ہوتی
اس شہر کے لوگوں سے اماں مانگ رہا ہوں
جس شہر میں قاتل کو سزا ہی نہیں ہوتی
یہ کہہ کے زمیں زادیاں گھر سے نکل آئیں
اشراف کے سر پر تو رِدا ہی نہیں ہوتی

دو چار سبز برگ جو سارے شجر میں ہیں

دو چار سبز برگ جو سارے شجر میں ہیں
ہو خیر ٹہنیوں کی، ہوا کی نظر میں ہیں
ہر اک قبا سے تمغۂ ہجرت اتار دو
ہم لوگ بھائی بھائی ہیں اور اپنے گھر میں ہیں
تیغِ ستم پہ خون سے تحریر ہو گئیں
وہ جرأتیں نہاں جو بدن کی سِپر میں ہیں

Wednesday, 18 December 2013

ایک تصویر نظر آتی ہے شہ پاروں میں

ایک تصویر نظر آتی ہے شہ پاروں میں
مشترک سوچ ہے اس عہد کے فن کاروں میں
لوگ جنگل کی ہواؤں سے ہیں اتنے خائف
کوئی روزن ہی نہیں گاؤں کی دیواروں میں
جس کی پیشانی پہ تحریر تھا محنت کا نصاب
سرِفہرست وہی شخص ہے بے کاروں میں

Monday, 16 December 2013

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لئے

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے
ہم نے تو اپنے جسم پر زخموں کے آئینے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے
میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اِس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے

Friday, 14 June 2013

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں
سفر نیا ہے، مگر کشتیاں پرانی ہیں
یہ کہہ کے اس نے شجر کو تنے سے کاٹ دیا
کہ اس درخت میں کچھ ٹہنیاں پرانی ہیں
ہم اس لیے بھی نئے ہمسفر تلاش کریں
ہمارے ہاتھ میں بیساکھیاں پرانی ہیں