Showing posts with label نکہت افتخار. Show all posts
Showing posts with label نکہت افتخار. Show all posts

Saturday, 16 March 2024

کیوں تجھے ڈر ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گی

 کیوں تجھے ڈر ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گی

میں تو نکہت ہوں، فضاؤں میں بکھر جاؤں گی

ساری دنیا سے کٹی ہوں تجھے پانے کے لیے

تُو نے ٹُھکرا دیا مجھ کو تو کدھر جاؤں گی

تُو مِرے حالِ پریشاں سے پریشان نہ ہو

لمس پا کر تِری خُوشبو کا میں نکھر جاؤں گی

Sunday, 12 November 2023

وعدوں سے کب تلک ہمیں بہلائیں گے جناب

 وعدوں سے کب تلک ہمیں بہلائیں گے جناب

کب تک ہمارے سر کی قسم کھائیں جناب

اپنا نہیں ہمیں تو ہے بس آپ کا خیال

تنہائیوں میں آپ ہی گھبرائیں جناب

ہجر و وصال دونوں کی لذّت جُدا جُدا

جانے کو جائیں، یہ کہیں کب آئیں جناب

Friday, 10 November 2023

اس کا معمول ہے ہر روز شکایت صاحب

 اس کا معمول ہے ہر روز شکایت صاحب 

مجھ پہ لازم ہے کہ دینی ہے وضاحت صاحب

آسمانوں کو مِرے چِھین لِیا، اس کے عِوض 

دی گئی ہے مجھے چھت کی سہولت صاحب

ہائے زِنداں کی گُھٹن میں تِرا احساں مجھ پر 

سانس لینے کی مجھے دے دی اجازت صاحب 

Thursday, 9 November 2023

ندی کے جس کنارے ہم کھڑے ہیں

 ندی کے جس کنارے ہم کھڑے ہیں

شکستہ ناؤ ہے، کچّے گھڑے ہیں

اسے اب کیا بتائیں، اس کی خاطر

خود اپنے آپ سے بھی لڑ پڑے ہیں

ہمیں معلوم ہے اپنی حقیقت

تمہارے چاہنے والے بڑے ہیں

Thursday, 17 February 2022

آسرا اب نہیں چاہیے ہے مجھے

 آسرا اب نہیں چاہئے ہے مجھے

یہ خدا اب نہیں چاہئے ہے مجھے

چاہئے ہے مجھے آپ کا ساتھ بس

مشورہ اب نہیں چاہئے ہے مجھے

جو ہواؤں کی سازش میں شامل رہا

وہ دِیا اب نہیں چاہئے ہے مجھے

Tuesday, 23 March 2021

شوق کو عازم سفر رکھیے

 شوق کو عازمِ سفر رکھیے

بے خبر بن کے سب خبر رکھیے

مجھ کو دل میں اگر بسانا ہے

ایک صحرا کو اپنے گھر رکھیے

چاہے نظریں ہوں آسمانوں پر

پاؤں لیکن زمین پر رکھیے