کیوں تجھے ڈر ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گی
میں تو نکہت ہوں، فضاؤں میں بکھر جاؤں گی
ساری دنیا سے کٹی ہوں تجھے پانے کے لیے
تُو نے ٹُھکرا دیا مجھ کو تو کدھر جاؤں گی
تُو مِرے حالِ پریشاں سے پریشان نہ ہو
لمس پا کر تِری خُوشبو کا میں نکھر جاؤں گی
کیوں تجھے ڈر ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گی
میں تو نکہت ہوں، فضاؤں میں بکھر جاؤں گی
ساری دنیا سے کٹی ہوں تجھے پانے کے لیے
تُو نے ٹُھکرا دیا مجھ کو تو کدھر جاؤں گی
تُو مِرے حالِ پریشاں سے پریشان نہ ہو
لمس پا کر تِری خُوشبو کا میں نکھر جاؤں گی
وعدوں سے کب تلک ہمیں بہلائیں گے جناب
کب تک ہمارے سر کی قسم کھائیں جناب
اپنا نہیں ہمیں تو ہے بس آپ کا خیال
تنہائیوں میں آپ ہی گھبرائیں جناب
ہجر و وصال دونوں کی لذّت جُدا جُدا
جانے کو جائیں، یہ کہیں کب آئیں جناب
اس کا معمول ہے ہر روز شکایت صاحب
مجھ پہ لازم ہے کہ دینی ہے وضاحت صاحب
آسمانوں کو مِرے چِھین لِیا، اس کے عِوض
دی گئی ہے مجھے چھت کی سہولت صاحب
ہائے زِنداں کی گُھٹن میں تِرا احساں مجھ پر
سانس لینے کی مجھے دے دی اجازت صاحب
ندی کے جس کنارے ہم کھڑے ہیں
شکستہ ناؤ ہے، کچّے گھڑے ہیں
اسے اب کیا بتائیں، اس کی خاطر
خود اپنے آپ سے بھی لڑ پڑے ہیں
ہمیں معلوم ہے اپنی حقیقت
تمہارے چاہنے والے بڑے ہیں
آسرا اب نہیں چاہئے ہے مجھے
یہ خدا اب نہیں چاہئے ہے مجھے
چاہئے ہے مجھے آپ کا ساتھ بس
مشورہ اب نہیں چاہئے ہے مجھے
جو ہواؤں کی سازش میں شامل رہا
وہ دِیا اب نہیں چاہئے ہے مجھے
شوق کو عازمِ سفر رکھیے
بے خبر بن کے سب خبر رکھیے
مجھ کو دل میں اگر بسانا ہے
ایک صحرا کو اپنے گھر رکھیے
چاہے نظریں ہوں آسمانوں پر
پاؤں لیکن زمین پر رکھیے