عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے گنبد کو اک نظر دیکھوں
پھر کسی کو نہ عمر بھر دیکھوں
بام دیکھوں نہ کوئی در دیکھوں
میں فقط تیری رہگزر دیکھوں
یوں سجاؤں تجھے سرِ مِژگاں
تیری تصویر عمر بھر دیکھوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے گنبد کو اک نظر دیکھوں
پھر کسی کو نہ عمر بھر دیکھوں
بام دیکھوں نہ کوئی در دیکھوں
میں فقط تیری رہگزر دیکھوں
یوں سجاؤں تجھے سرِ مِژگاں
تیری تصویر عمر بھر دیکھوں
ہمیں تھے جان بہاراں ہمیں تھے رنگ طرب
ہمیں ہیں بزم مے و گل میں آج مہر بہ لب
وہی تجھے بھی نظر آئے بے ادب جو لوگ
فقیہ شہر سے الجھے تری گلی کے سبب
خیال و فکر کے پھر سلسلے سلگ نہ اٹھیں
کہ چبھ رہی ہے دلوں میں ہوائے گیسوئے شب
آتشدان
کتنی یادیں
جلا چکا ہوں میں
کتنے ارماں
بجھا چکا ہوں میں
کرسیاں کھینچ کر مِرے نزدیک
جو مے کدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے
تِری گلی سے جو گزرے تو لڑکھڑا کے چلے
ہمیں بھی قصۂ دار و رسن سے نِسبت ہے
فقیہِ شہر سے کہہ دو؛ نظر ملا کے چلے
کوئی تو جانے کہ گزری ہے دل پہ کیا جب بھی
خزاں کے باغ میں جھونکے خنک ہوا کے چلے
ہو سکے تو دل صد چاک دکھایا جائے
اب بھری بزم میں احوال سنایا جائے
ہائے اس جانِ تمنا سے نبھے گی کیسے
ہم سے تو راز نہ اک روز چھپایا جائے
اپنا غم ہو تو اسے کہہ کے سکوں مل جائے
اس کا غم ہو تو کسے جا کے سنایا جائے
ادا میں رنگ تبسم وہ بھر کے دیکھتے ہیں
انہیں مریض سبھی دل جگر کے دیکھتے ہیں
یہ وسوسے، یہ کشاکش، یہ شورشیں یہ جنون
کمال سارے اسی اک نظر کے دیکھتے ہیں
وہ ان کے جلوے سحرگیں، ادائیں بیش نظر
سو ظرف چشم میں امکان بھر کے دیکھتے ہیں