Showing posts with label امین راحت چغتائی. Show all posts
Showing posts with label امین راحت چغتائی. Show all posts

Sunday, 11 August 2024

تیرے گنبد کو اک نظر دیکھوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تیرے گنبد کو اک نظر دیکھوں

پھر کسی کو نہ عمر بھر دیکھوں

بام دیکھوں نہ کوئی در دیکھوں

میں فقط تیری رہگزر دیکھوں

یوں سجاؤں تجھے سرِ مِژگاں

تیری تصویر عمر بھر دیکھوں

Sunday, 13 March 2022

ہمیں تھے جان بہاراں ہمیں تھے رنگ طرب

 ہمیں تھے جان بہاراں ہمیں تھے رنگ طرب

ہمیں ہیں بز‌م مے و گل میں آج مہر بہ لب

وہی تجھے بھی نظر آئے بے ادب جو لوگ

فقیہ شہر سے الجھے تری گلی کے سبب

خیال و فکر کے پھر سلسلے سلگ نہ اٹھیں

کہ چبھ رہی ہے دلوں میں ہوائے گیسوئے شب

Tuesday, 4 January 2022

آتشدان کتنی یادیں جلا چکا ہوں میں

 آتشدان


کتنی یادیں

جلا چکا ہوں میں

کتنے ارماں

بجھا چکا ہوں میں

کرسیاں کھینچ کر مِرے نزدیک

Friday, 10 December 2021

جو میکدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے

 جو مے کدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے

تِری گلی سے جو گزرے تو لڑکھڑا کے چلے

ہمیں بھی قصۂ دار و رسن سے نِسبت ہے

فقیہِ شہر سے کہہ دو؛ نظر ملا کے چلے

کوئی تو جانے کہ گزری ہے دل پہ کیا جب بھی

خزاں کے باغ میں جھونکے خنک ہوا کے چلے

Thursday, 9 December 2021

ہو سکے تو دل صد چاک دکھایا جائے

 ہو سکے تو دل صد چاک دکھایا جائے

اب بھری بزم میں احوال سنایا جائے

ہائے اس جانِ تمنا سے نبھے گی کیسے

ہم سے تو راز نہ اک روز چھپایا جائے

اپنا غم ہو تو اسے کہہ کے سکوں مل جائے

اس کا غم ہو تو کسے جا کے سنایا جائے

Thursday, 18 March 2021

ادا میں رنگ تبسم وہ بھر کے دیکھتے ہیں

 ادا میں رنگ تبسم وہ بھر کے دیکھتے ہیں

انہیں مریض سبھی دل جگر کے دیکھتے ہیں

یہ وسوسے، یہ کشاکش، یہ شورشیں یہ جنون

کمال سارے اسی اک نظر کے دیکھتے ہیں

وہ ان کے جلوے سحرگیں، ادائیں بیش نظر

سو ظرف چشم میں امکان بھر کے دیکھتے ہیں