گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے
جس حال میں رہے تِرا نقش بقا رہے
ہم تو تمام عمر تِری ہی ادا رہے
یہ کیا ہوا کہ پھر بھی ہمیں بے وفا رہے
چاہی جو تو نے بات وہی بات ہم نے کی
تیری زباں بنے ترے دل کی صدا رہے
گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے
جس حال میں رہے تِرا نقش بقا رہے
ہم تو تمام عمر تِری ہی ادا رہے
یہ کیا ہوا کہ پھر بھی ہمیں بے وفا رہے
چاہی جو تو نے بات وہی بات ہم نے کی
تیری زباں بنے ترے دل کی صدا رہے
ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے
کتنا مہیب شہر کا منظر لگا مجھے
خلقت بہت تھی پھر بھی کوئی بولتا نہ تھا
سنسان راستوں سے بہت ڈر لگا مجھے
قاتل کا ہاتھ آج خدا کے ہے رو بہ رو
دستِ دعا بھی خون کا ساغر لگا مجھے
کون ہمارا درد بٹائے، کون ہمارا تھامے ہات
ان کے نگر میں جگمگ جگمگ اپنے دیس میں رات ہی رات
نیلے نیلے امبر پر وہ چاند وہ کرنوں کی برسات
ہم دونوں کھوئے کھوئے سے سے ہائے وہ مست منوہر گھات
تو گلشن گلشن اٹھلائے میں صحرا صحرا بھٹکوں
دل کا یہ سودا ہے ورنہ تیرا اور میرا کیا سات
تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے
کبھی شب کو دن کہا ہے کبھی دن میں خواب دیکھے
مرے دل میں اس طرح ہے تری آرزو خراماں
کوئی نازنیں ہو جیسے جو کھلی کتاب دیکھے
جسے میری آرزو ہو جو خراب کُو بہ کُو ہو
مجھے دیکھنے سے پہلے تجھے بے نقاب دیکھے
دل کی دل نے نہ کہی، یوں تو کئی بار ملے
ہم شناسا تھے مگر، صورتِ اغیار ملے
اس سے کہنا کہ نہ اب اور وہ اِترا کے چلے
دوستو! تم کو اگر یارِ طرحدار ملے
بے وفا ہم ہیں تو اے جانِ وفا یونہی سہی
ڈھونڈ لینا جو تمہیں کوئی وفادار ملے
منہ بند حسرتوں کو سخن آشنا کرو
توڑو سکوت، سازِ غزل ابتدا کرو
لاؤ کہیں سے سنگِ ملامت ہی کیوں نہ ہو
یارو! شکستِ شیشۂ دل کی دعا کرو
معصوم لغزشوں کی بہت داد مل چکی
اب آشنائے غیر کے طعنے سنا کرو
رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے
یارو! نئے سفر کا ابھی حوصلہ تو ہے
واماندگی سے اٹھ نہیں سکتا تو کیا ہوا
منزل سے آشنا نہ سہی نقش پا تو ہے
ہاتھوں میں ہاتھ لے کے یہاں سے گزر چلیں
قدموں میں پل صراط سہی راستا تو ہے
محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے
وقت نے چھین لیے کتنے شناسا چہرے
ساری دنیا کے لیے ایک تماشا چہرے
دل تو پردے میں رہے ہو گئے رسوا چہرے
تم وہ بے درد کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا ان کو
ورنہ کرتے رہے کیا کیا نہ تقاضا چہرے
آؤ پت جھڑ میں کبھی حال ہمارا دیکھو
خشک پتوں کے سلگنے کا تماشا دیکھو
پاس آ کر مرے بیٹھو مجھے اپنا سمجھو
جب بھی روٹھی ہوئی یادو مجھے تنہا دیکھو
پھول ہر شاخ پہ کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
کیا تماشا ہے سر نخل تمنا دیکھو
یہ منظر، یہ روپ انوکھے، سب شہکار ہمارے ہیں
ہم نے اپنے خون جگر سے کیا کیا نقش ابھارے ہیں
صدیوں کے دل کی دھڑکن ہے ان کی جاگتی آنکھوں میں
یہ جو فلک پر ہنس مکھ چنچل جگمگ جگمگ تارے ہیں
ایک ذرا سی بھول پہ ہم کو اتنا تو بد نام نہ کر
ہم نے اپنے گھاؤ چھپا کر تیرے کاج سنوارے ہیں
یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے
جمیل زخم لگے اور بے حساب لگے
تمہارے بعد نہ تکمیل ہو سکی اپنی
تمہارے بعد ادھورے تمام خواب لگے
میں کیسے تجھ کو پکاروں کہاں سے لاؤں تجھے
ترے بغیر اگر زندگی عذاب لگے
میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا
اپنی تصویر کے پیچھے تِرا چہرا دیکھا
جس کی خوشبو سے مہک جائے شبستان وصال
دوستو تم نے کبھی وہ گل صحرا دیکھا
اجنبی بن کے ملے دل میں اترتا جائے
شہر میں کوئی بھی تجھ سا نہ شناسا دیکھا