Showing posts with label جمیل ملک. Show all posts
Showing posts with label جمیل ملک. Show all posts

Friday, 22 April 2022

گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے

 گل پیرہن رہے کہ دریدہ قبا رہے

جس حال میں رہے تِرا نقش بقا رہے

ہم تو تمام عمر تِری ہی ادا رہے

یہ کیا ہوا کہ پھر بھی ہمیں بے وفا رہے

چاہی جو تو نے بات وہی بات ہم نے کی

تیری زباں بنے ترے دل کی صدا رہے

Tuesday, 5 April 2022

ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے

 ہر گھر کے آس پاس سمندر لگا مجھے

کتنا مہیب شہر کا منظر لگا مجھے

خلقت بہت تھی پھر بھی کوئی بولتا نہ تھا

سنسان راستوں سے بہت ڈر لگا مجھے

قاتل کا ہاتھ آج خدا کے ہے رو بہ رو

دستِ دعا بھی خون کا ساغر لگا مجھے

Monday, 23 November 2020

کون ہمارا درد بٹائے کون ہمارا تھامے ہات

 کون ہمارا درد بٹائے، کون ہمارا تھامے ہات

ان کے نگر میں جگمگ جگمگ اپنے دیس میں رات ہی رات

نیلے نیلے امبر پر وہ چاند وہ کرنوں کی برسات

ہم دونوں کھوئے کھوئے سے سے ہائے وہ مست منوہر گھات

تو گلشن گلشن اٹھلائے میں صحرا صحرا بھٹکوں

دل کا یہ سودا ہے ورنہ تیرا اور میرا  کیا سات

Sunday, 22 November 2020

تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے

 تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے

کبھی شب کو دن کہا ہے کبھی دن میں خواب دیکھے

مرے دل میں اس طرح ہے تری آرزو خراماں

کوئی نازنیں ہو جیسے جو کھلی کتاب دیکھے

جسے میری آرزو ہو جو خراب کُو بہ کُو ہو

مجھے دیکھنے سے پہلے تجھے بے نقاب دیکھے

Saturday, 21 November 2020

دل کی دل نے نہ کہی یوں تو کئی بار ملے

 دل کی دل نے نہ کہی، یوں تو کئی بار ملے

ہم شناسا تھے مگر، صورتِ اغیار ملے

اس سے کہنا کہ نہ اب اور وہ اِترا کے چلے

دوستو! تم کو اگر یارِ طرحدار ملے

بے وفا ہم ہیں تو اے جانِ وفا یونہی سہی

ڈھونڈ لینا جو تمہیں کوئی وفادار ملے

Friday, 20 November 2020

منہ بند حسرتوں کو سخن آشنا کرو

 منہ بند حسرتوں کو سخن آشنا کرو

توڑو سکوت، سازِ غزل ابتدا کرو

لاؤ کہیں سے سنگِ ملامت ہی کیوں نہ ہو

یارو! شکستِ شیشۂ دل کی دعا کرو

معصوم لغزشوں کی بہت داد مل چکی

اب آشنائے غیر کے طعنے سنا کرو

رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے

 رستے میں لٹ گیا ہے تو کیا قافلہ تو ہے 

یارو! نئے سفر کا ابھی حوصلہ تو ہے 

واماندگی سے اٹھ نہیں سکتا تو کیا ہوا 

منزل سے آشنا نہ سہی نقش پا تو ہے 

ہاتھوں میں ہاتھ لے کے یہاں سے گزر چلیں 

قدموں میں پل صراط سہی راستا تو ہے 

محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے

 محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے 

وقت نے چھین لیے کتنے شناسا چہرے 

ساری دنیا کے لیے ایک تماشا چہرے 

دل تو پردے میں رہے ہو گئے رسوا چہرے 

تم وہ بے درد کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا ان کو

ورنہ کرتے رہے کیا کیا نہ تقاضا چہرے

آؤ پت جھڑ میں کبھی حال ہمارا دیکھو

 آؤ پت جھڑ میں کبھی حال ہمارا دیکھو

خشک پتوں کے سلگنے کا تماشا دیکھو

پاس آ کر مرے بیٹھو مجھے اپنا سمجھو

جب بھی روٹھی ہوئی یادو مجھے تنہا دیکھو

پھول ہر شاخ پہ کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

کیا تماشا ہے سر نخل تمنا دیکھو

Thursday, 19 November 2020

یہ منظر یہ روپ انوکھے سب شہکار ہمارے ہیں

 یہ منظر، یہ روپ انوکھے، سب شہکار ہمارے ہیں

ہم نے اپنے خون جگر سے کیا کیا نقش ابھارے ہیں

صدیوں کے دل کی دھڑکن ہے ان کی جاگتی آنکھوں میں

یہ جو فلک پر ہنس مکھ چنچل جگمگ جگمگ تارے ہیں

ایک ذرا سی بھول پہ ہم کو اتنا تو بد نام نہ کر

ہم نے اپنے گھاؤ چھپا کر تیرے کاج سنوارے ہیں

یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے

 یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے 

جمیل زخم لگے اور بے حساب لگے 

تمہارے بعد نہ تکمیل ہو سکی اپنی 

تمہارے بعد ادھورے تمام خواب لگے 

میں کیسے تجھ کو پکاروں کہاں سے لاؤں تجھے 

ترے بغیر اگر زندگی عذاب لگے 

Tuesday, 29 December 2015

میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا

 میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا

اپنی تصویر کے پیچھے تِرا چہرا دیکھا

جس کی خوشبو سے مہک جائے شبستان وصال

دوستو تم نے کبھی وہ گل صحرا دیکھا

اجنبی بن کے ملے دل میں اترتا جائے

شہر میں کوئی بھی تجھ سا نہ شناسا دیکھا

Thursday, 19 November 2015

سب کی آنکھوں میں نظر آتی ہے صورت میری

سب کی آنکھوں میں نظر آتی ہے صورت میری
کتنے سانچوں میں ڈھلی، ایک محبت میری
تیرا پردہ ہی نہیں، میں تِرا اظہار بھی ہوں
تیری ہستی سے نمایاں ہے حقیقت میری
تجھ سے کچھ بھی نہیں کہوں، اپنی وفاؤں پہ ہنسوں
تیری بے گانہ روی اور اذیت میری