جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئے
وہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئے
رسم وفا نہ پیار کی پہلی سی ریت ہے
جانے کہاں وہ پریت کے دھارے چلے گئے
ہم کھیلتے ہی رہ گئے طوفان و موج سے
آ آ کے پاس دور کنارے چلے گئے
جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئے
وہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئے
رسم وفا نہ پیار کی پہلی سی ریت ہے
جانے کہاں وہ پریت کے دھارے چلے گئے
ہم کھیلتے ہی رہ گئے طوفان و موج سے
آ آ کے پاس دور کنارے چلے گئے
حدیث دلبراں ہے اور میں ہوں
جہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوں
مداوائے غم فرقت نہیں کچھ
بس ان کی داستاں ہے اور میں ہوں
نہ ہمدم ہے نہ کوئی ہم نواں ہے
دل اپنا راز داں ہے اور میں ہوں
پیار ان کو دیکھ کر بے اختیار آ ہی گیا
وہ جو آئے، دل مِرا دیوانہ وار آ ہی گیا
دل مِرے پہلو سے جائے گا نہ آتا تھا یقیں
اک نظر دیکھا انہیں تو اعتبار آ ہی گیا
اب گیا ان کا تصور جی گیا بیمار عشق
شدت غم میں بھی چہرے پر نکھار آ ہی گیا
تنہائیوں میں کیا کہوں کیا یاد آ گیا
افسانہ ایک بُھولا ہُوا یاد آ گیا
آساں سمجھ کے منزل جاناں پہ ہو لیے
وہ مُشکلیں پڑی کہ خُدا یاد آ گیا
سمجھا تھا میں کہ دل میں وہ اب محو ہو چکا
پہلے سے بھی مگر وہ سوا یاد آ گیا
تجھ کو چاہوں مِری مجال کہاں
بس میں لیکن مِرا خیال کہاں
تیرا ملنا محال ہے، لیکن
تُو جو چاہے تو پھر محال کہاں
ایک لمحہ کرم کا دے دیتے
میں نے مانگے تھے ماہ و سال کہاں