Showing posts with label جے کرشن حبیب. Show all posts
Showing posts with label جے کرشن حبیب. Show all posts

Wednesday, 26 March 2025

جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئے

 جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئے

وہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئے

رسم وفا نہ پیار کی پہلی سی ریت ہے

جانے کہاں وہ پریت کے دھارے چلے گئے

ہم کھیلتے ہی رہ گئے طوفان و موج سے

آ آ کے پاس دور کنارے چلے گئے

Friday, 14 March 2025

حدیث دلبراں ہے اور میں ہوں

 حدیث دلبراں ہے اور میں ہوں

جہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوں

مداوائے غم فرقت نہیں کچھ

بس ان کی داستاں ہے اور میں ہوں

نہ ہمدم ہے نہ کوئی ہم نواں ہے

دل اپنا راز داں ہے اور میں ہوں

Saturday, 24 August 2024

پیار ان کو دیکھ کر بے اختیار آ ہی گیا

 پیار ان کو دیکھ کر بے اختیار آ ہی گیا

وہ جو آئے، دل مِرا دیوانہ وار آ ہی گیا

دل مِرے پہلو سے جائے گا نہ آتا تھا یقیں

اک نظر دیکھا انہیں تو اعتبار آ ہی گیا

اب گیا ان کا تصور جی گیا بیمار عشق

شدت غم میں بھی چہرے پر نکھار آ ہی گیا

Wednesday, 26 June 2024

تنہائیوں میں کیا کہوں کیا یاد آ گیا

 تنہائیوں میں کیا کہوں کیا یاد آ گیا

افسانہ ایک بُھولا ہُوا یاد آ گیا

آساں سمجھ کے منزل جاناں پہ ہو لیے

وہ مُشکلیں پڑی کہ خُدا یاد آ گیا

سمجھا تھا میں کہ دل میں وہ اب محو ہو چکا

پہلے سے بھی مگر وہ سوا یاد آ گیا

Tuesday, 1 February 2022

تجھ کو چاہوں مری مجال کہاں

تجھ کو چاہوں مِری مجال کہاں

بس میں لیکن مِرا خیال کہاں

تیرا ملنا محال ہے، لیکن

تُو جو چاہے تو پھر محال کہاں

ایک لمحہ کرم کا دے دیتے

میں نے مانگے تھے ماہ و سال کہاں