Tuesday, 1 February 2022

تجھ کو چاہوں مری مجال کہاں

تجھ کو چاہوں مِری مجال کہاں

بس میں لیکن مِرا خیال کہاں

تیرا ملنا محال ہے، لیکن

تُو جو چاہے تو پھر محال کہاں

ایک لمحہ کرم کا دے دیتے

میں نے مانگے تھے ماہ و سال کہاں

پھر نشیمن قفس میں یاد آیا

میں کہاں اور مِرا خیال کہاں

مےکدہ جو رہِ حیات میں ہو

گُمرہی کا پھر احتمال کہاں

دل نے مُشکل سے چین پایا تھا

پھر سے آیا تِرا خیال کہاں

وہ ملے بھی تو اجنبی کی طرح

پُرسش حال کا سوال کہاں؟

چُپ ہی بہتر ہے اس زمانے میں

سُننے والا ہے دل کا حال کہاں

کیا نہ دیکھا حبیب دنیا میں

یاں سے جانے میں پھر ملال کہاں


جے کرشن چودھری حبیب

No comments:

Post a Comment