Tuesday, 1 February 2022

گرچہ ہیں بہت اس کے کمالات سیاسی

 گرچہ ہیں بہت اس کے کمالات سیاسی

کیا اس کو بچا لیں گے بیانات سیاسی

آتا ہو خوشامد کا بھی فن جس کو زیادہ

ہوتے ہیں بلند اس کے ہی درجات سیاسی

ہوتا ہے صحیح معنوں میں جو قوم کا لیڈر

سچ کہتا ہے وہ کرتا نہیں بات سیاسی

ہیں خوار بہت ان دنوں پیرانِ سیاست

چلتی نہیں اب ان کی کرامات سیاسی

شطرنج کا اک کھیل ہے میدان، سیاست

ہے اس میں کبھی فتح کبھی مات سیاسی

اس جھوٹ کے مکتب میں ہیں شاگرد بھی ایسے

لکھے ہوئے پڑھتے ہیں جو فقرات سیاسی

اک بندۂ صحرائی کو کُٹیا سے اٹھا کر

لے آتے ہیں اک تخت پہ ثمرات سیاسی

ہو سکتا نہیں دفتر،۔ سرکار میں نوکر

جب تک نہ کسی پشت پہ ہو ہات سیاسی

خواہش کسی عہدے کی نہ منصب کی ہے عابد

میں اس لیے لکھتا نہیں کلمات سیاسی


عابد کمالوی

No comments:

Post a Comment