چل دیا وہ اس طرح مجھ کو پریشاں چھوڑ کر
موسمِ گل جیسے جائے ہے گلستاں چھوڑ کر
گو بھروسہ ہے مجھے اپنے خلوصِ شوق پر
کون آئے گا یہاں جشنِ بہاراں چھوڑ کر
وہ جو اپنے ساتھ لایا تھا گلستاں کی بہار
جا رہا ہے اب کہاں وہ گھر کو ویراں چھوڑ کر
چل دیا وہ اس طرح مجھ کو پریشاں چھوڑ کر
موسمِ گل جیسے جائے ہے گلستاں چھوڑ کر
گو بھروسہ ہے مجھے اپنے خلوصِ شوق پر
کون آئے گا یہاں جشنِ بہاراں چھوڑ کر
وہ جو اپنے ساتھ لایا تھا گلستاں کی بہار
جا رہا ہے اب کہاں وہ گھر کو ویراں چھوڑ کر
چلا ہوں گھر سے میں احوالِ دل سنانے کو
وہ منتظر ہیں مِرا ضبط آزمانے کو
رقیب ساتھ ہے اور زیر لب تبسم ہے
عجب طرح سے وہ آیا ہے دل دُکھانے کو
اگرچہ بزمِ طرب میں ہوس کا غلبہ ہے
میں آ گیا ہوں محبت کے گیت گانے کو
وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے
جو روشنی کہ تِرے حسن بے نقاب میں ہے
چمن میں لالہ و گل شرمسار ہوتے ہیں
عجب طرح کا اثر حسن بے نقاب میں ہے
میں اپنے عشق فراواں پہ ناز کرتا ہوں
مِرا کمال مِرے حسنِ انتخاب میں ہے
چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نِکلے
مِری تارِ رگِ جاں سے صدائے آفریں نکلے
سمجھ جاتا ہوں فوراً کیا ہے مطلب لن ترانی کا
مِری خواہش پہ جب پردے سے وہ پردہ نشیں نکلے
فلک نے جب کِیا حملہ مِری شاخِ نشیمن پر
جو دشمن سامنے آئے وہ اپنے ہم نشیں نکلے
جب عاشقی میں میرا کوئی رازداں نہیں
ایسی لگی ہے آگ کہ جس کا دھواں نہیں
گو میں شریکِ بزم سرِ آسماں نہیں
وہ راز کون سا ہے جو مجھ پر عیاں نہیں
میرا مقام عشقِ بتاں میں ہے بے مثال
گو میں رہینِ منتِ پیرِ مغاں نہیں
میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا
یوں راہ زندگی میں سہارا نہیں رہا
فرقت میں اسکی صبر و تحمل تھا عشق میں
وہ آ گیا تو ضبط کا یارا نہیں رہا
ہر لحظہ شوقِ حسن میں یہ بےقرار ہے
اب میرا دل کے ساتھ گزارا نہیں رہا