Showing posts with label زاہد چوہدری. Show all posts
Showing posts with label زاہد چوہدری. Show all posts

Thursday, 28 April 2022

چل دیا وہ اس طرح مجھ کو پریشاں چھوڑ کر

 چل دیا وہ اس طرح مجھ کو پریشاں چھوڑ کر

موسمِ گل جیسے جائے ہے گلستاں چھوڑ کر

گو بھروسہ ہے مجھے اپنے خلوصِ شوق پر

کون آئے گا یہاں جشنِ بہاراں چھوڑ کر

وہ جو اپنے ساتھ لایا تھا گلستاں کی بہار

جا رہا ہے اب کہاں وہ گھر کو ویراں چھوڑ کر

Friday, 19 November 2021

چلا ہوں گھر سے میں احوال دل سنانے کو

 چلا ہوں گھر سے میں احوالِ دل سنانے کو

وہ منتظر ہیں مِرا ضبط آزمانے کو

رقیب ساتھ ہے اور زیر لب تبسم ہے

عجب طرح سے وہ آیا ہے دل دُکھانے کو

اگرچہ بزمِ طرب میں ہوس کا غلبہ ہے

میں آ گیا ہوں محبت کے گیت گانے کو

Thursday, 18 November 2021

وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے

 وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے

جو روشنی کہ تِرے حسن بے نقاب میں ہے

چمن میں لالہ و گل شرمسار ہوتے ہیں

عجب طرح کا اثر حسن بے نقاب میں ہے

میں اپنے عشق فراواں پہ ناز کرتا ہوں

مِرا کمال مِرے حسنِ انتخاب میں ہے

Wednesday, 17 November 2021

چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نکلے

 چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نِکلے

مِری تارِ رگِ جاں سے صدائے آفریں نکلے

سمجھ جاتا ہوں فوراً کیا ہے مطلب لن ترانی کا

مِری خواہش پہ جب پردے سے وہ پردہ نشیں نکلے

فلک نے جب کِیا حملہ مِری شاخِ نشیمن پر

جو دشمن سامنے آئے وہ اپنے ہم نشیں نکلے

Thursday, 5 August 2021

جب عاشقی میں میرا کوئی رازداں نہیں

 جب عاشقی میں میرا کوئی رازداں نہیں

ایسی لگی ہے آگ کہ جس کا دھواں نہیں

گو میں شریکِ بزم سرِ آسماں نہیں

وہ راز کون سا ہے جو مجھ پر عیاں نہیں

میرا مقام عشقِ بتاں میں ہے بے مثال

گو میں رہینِ منتِ پیرِ مغاں نہیں

Saturday, 31 July 2021

میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا

 میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا

یوں راہ زندگی میں سہارا نہیں رہا

فرقت میں اسکی صبر و تحمل تھا عشق میں

وہ آ گیا تو ضبط کا یارا نہیں رہا

ہر لحظہ شوقِ حسن میں یہ بےقرار ہے

اب میرا دل کے ساتھ گزارا نہیں رہا