Friday, 19 November 2021

چلا ہوں گھر سے میں احوال دل سنانے کو

 چلا ہوں گھر سے میں احوالِ دل سنانے کو

وہ منتظر ہیں مِرا ضبط آزمانے کو

رقیب ساتھ ہے اور زیر لب تبسم ہے

عجب طرح سے وہ آیا ہے دل دُکھانے کو

اگرچہ بزمِ طرب میں ہوس کا غلبہ ہے

میں آ گیا ہوں محبت کے گیت گانے کو

میں جا رہا ہوں وہاں جبکہ از رہِ تفریح

سجی ہے بزم مِرا شوق آزمانے کو

روش روش میں ہے افسردگی کی افزائش

وہ پھر بھی نکلے ہیں تفریح گل منانے کو

جنون عشق مرا جبکہ اک حقیقت ہے

الگ کروں گا میں اس عشق سے فسانے کو

میں چاہتا تھا مِرا عشق ایک راز رہے

وہ آ گیا تو خبر ہو گئی زمانے کو

وہ جن سے مجھ کو توقع تھی پاسبانی کی

وہ آ گئے ہیں مِرا آشیاں جلانے کو

جنابِ شیخ کی یہ وہ رخی معاذ اللہ

ہوئی ہے شب تو چلے ہیں شراب خانے کو

رہِ حیات میں بہروپیوں سے واقف ہوں

جو غم گسار بنے میرا دل دُکھانے کو

جو بے خبر ہیں سراپا وہ پھر رہے ہیں آج

قدم قدم پہ نئی داستاں سنانے کو

جدھر نگاہ اٹھاؤ رواں ہے خونِ جگر

خبر نہیں کہ یہ کیا ہو گیا زمانے کو


زاہد چوہدری

No comments:

Post a Comment