Friday, 19 November 2021

ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود

 ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود

حاصل نہ کر سکا انہیں کوشش کے باوجود

آنکھوں سے آشکارا نہیں ہونے دی تپش

دل میں دہکتی ہجر کی آتش کے باوجود

تیرا ہوں میں تو تیرے کرم سے تِرا ہوں میں

شیطان اور نفس کی سازش کے باوجود

شاید اٹھیں وہ سن کے سرافیل کی صدا

جو نیند میں ہیں چار سو شورش کے باوجود

وہ زہر دے رہا تھا میں سمجھا شراب ہے

اک مغبچے کے ہاتھ کی لرزش کے باوجود

حیرت ہے ان پہ تجھ کو نہیں مانتے جو لوگ

شمس و قمر میں تیری نمائش کے باوجود

خواہش کے وہ بغیر ملے گا بروزِ حشر

دنیا میں جو نہ مل سکا خواہش کے باوجود

گیلانی کوئی ایسا نہ ہو گا جو حشر میں

بخشا نہ جائے ان کی سفارش کے باوجود


سلمان گیلانی

No comments:

Post a Comment