بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں
قدم قدم پہ ہی فکر معاش ہے میں ہوں
زمانے بھر میں تو یہ راز فاش ہے میں ہوں
مگر مجھے تو مری ہی تلاش ہے میں ہوں
ہر ایک ضرب نئے تجربے اکیرے ہے
حیات ہے کہ کوئی سنگ تراش ہے میں ہوں
بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں
قدم قدم پہ ہی فکر معاش ہے میں ہوں
زمانے بھر میں تو یہ راز فاش ہے میں ہوں
مگر مجھے تو مری ہی تلاش ہے میں ہوں
ہر ایک ضرب نئے تجربے اکیرے ہے
حیات ہے کہ کوئی سنگ تراش ہے میں ہوں
یاد ماضی
زندگی کے سیاہ کمرے میں
بیتی یادوں کے چند جگنو ہیں
جو مسلسل تسلیاں دے کر
مجھ کو سمجھا رہے ہیں برسوں سے
صرف پانا ہی شرط عشق نہیں
عشق تو وہ عظیم مرکز ہے
دل میں پیغام محبت سا اتارا جاؤں
اس سے پہلے کہ کسی بھیڑ میں مارا جاؤں
وصل کی چاہ میں یہ ہجر کمایا میں نے
ہجر کو خرچ کروں زیست سے ہارا جاؤں
روٹھی تقدیر ہوں تو مجھ کو منایا جائے
اور گر بگڑا مقدر ہوں سنوارا جاؤں
نئے مسیحا بنیں گے نئے لقب ہوں گے
ہمارے ملک میں پھر انتخاب اب ہوں گے
سنا ہے پھر سے نئے خواب بیچے جائیں گے
سنا ہے پھر سے نئے جملے زیر لب ہوں گے
جو پانچ سال کبھی یاد تک نہیں آئے
وہی غریب وہ لاچار پھر طلب ہوں گے