Showing posts with label اعجاز شہاب. Show all posts
Showing posts with label اعجاز شہاب. Show all posts

Friday, 26 December 2025

بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں

 بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں

قدم قدم پہ ہی فکر معاش ہے میں ہوں

زمانے بھر میں تو یہ راز فاش ہے میں ہوں

مگر مجھے تو مری ہی تلاش ہے میں ہوں

ہر ایک ضرب نئے تجربے اکیرے ہے

حیات ہے کہ کوئی سنگ تراش ہے میں ہوں

Sunday, 6 July 2025

یاد ماضی خدا کی رحمت ہے

 یاد ماضی


زندگی کے سیاہ کمرے میں

بیتی یادوں کے چند جگنو ہیں

جو مسلسل تسلیاں دے کر

مجھ کو سمجھا رہے ہیں برسوں سے

صرف پانا ہی شرط عشق نہیں

عشق تو وہ عظیم مرکز ہے

Sunday, 19 January 2025

دل میں پیغام محبت سا اتارا جاؤں

 دل میں پیغام محبت سا اتارا جاؤں

اس سے پہلے کہ کسی بھیڑ میں مارا جاؤں

وصل کی چاہ میں یہ ہجر کمایا میں نے

ہجر کو خرچ کروں زیست سے ہارا جاؤں

روٹھی تقدیر ہوں تو مجھ کو منایا جائے

اور گر بگڑا مقدر ہوں سنوارا جاؤں

Monday, 29 November 2021

نئے مسیحا بنیں گے نئے لقب ہوں گے

نئے مسیحا بنیں گے نئے لقب ہوں گے

ہمارے ملک میں پھر انتخاب اب ہوں گے

سنا ہے پھر سے نئے خواب بیچے جائیں گے

سنا ہے پھر سے نئے جملے زیر لب ہوں گے

جو پانچ سال کبھی یاد تک نہیں آئے

وہی غریب وہ لاچار پھر طلب ہوں گے