Showing posts with label ابو طالب انیم. Show all posts
Showing posts with label ابو طالب انیم. Show all posts

Wednesday, 21 October 2026

آبجو سے اٹھی بھاپ میں آنکھ کا پھول جلتا رہا

 آبجُو سے اُٹھی بھاپ میں آنکھ کا پھُول جلتا رہا

اک رہٹ سے مِرے خواب بہتے رہے اور میں چلتا رہا

میں نے دیکھے اندھیرے میں ڈُوبے ہوئے پھُول کِھلتے ہوئے

خواب کا ذائقہ میرے اندر ہی اندر پِگھلتا رہا

پتہ پتہ گِرا خاک پر رات تنہائی سے اٹ گئی

کروٹوں پر نئی کروٹیں کھیت میں ہل بدلتا رہا

Thursday, 27 November 2025

رہے گا کب تک یہ رقص بے جان پتھروں پر

 رہے گا کب تک یہ رقص بے جان پتھروں پر

کوئی گِرائے عمود حیرت کے دائروں پر

مِرے لیے عرش پر کوئی جال بُن رہا ہے

بہت سی آنکھیں لگی ہوئی ہیں مِرے پروں پر

کھلی ہوئی کھڑکیوں سے رستے لٹک رہے تھے

ہمارے پہرے کہ بس جمے رہ گئے دروں پر

Friday, 21 March 2025

تو کیا سرہانے نیا کوئی قہقہہ اگا ہے

 تو کیا سرہانے نیا کوئی قہقہہ اگا ہے

جو دکھ اچانک ہی پائنتی سے لگا کھڑا ہے

زمین پایوں سے کھاٹ کے چڑھ رہی ہے ایسے

کہ جیسے سارا فلک مجھی پر جھکا ہوا ہے

عصا کو دیمک نگل رہی ہے میں جان بیٹھا

کمر سے پہلے ہی حوصلہ ٹوٹنے لگا ہے

Thursday, 4 July 2024

رکی ہوئی موج ہے کہ تیراک رک گئے ہیں

 رکی ہوئی موج ہے کہ تیراک رک گئے ہیں

لہو کے طوفان زیرِ پوشاک رک گئے ہیں

تمام معروض میری آنکھوں میں گندھ گئے تھے

مگر اچانک شعور کے چاک رک گئے ہیں

یہ اونچے اونچے پہاڑ جیسے زمیں کے جوہر

بس ایک لمحے کو ہو کے بے باک رک گئے ہیں

Tuesday, 2 July 2024

رخ سیاہ سنوارا نہیں گیا مجھ سے

 رُخِ سیاہ سنوارا نہیں گیا مجھ سے

چمکتے دن بھی ستارا نہیں گیا مجھ سے

دُعا کو ہاتھ بھی تھے اور فلک قریب بھی تھا

میں رو دیا کہ پُکارا نہیں گیا مجھ سے

میں زندگی سے فقط ایک دن ہی چاہتا تھا

وہ ایک دن بھی گُزارا نہیں گیا مجھ سے