آبجُو سے اُٹھی بھاپ میں آنکھ کا پھُول جلتا رہا
اک رہٹ سے مِرے خواب بہتے رہے اور میں چلتا رہا
میں نے دیکھے اندھیرے میں ڈُوبے ہوئے پھُول کِھلتے ہوئے
خواب کا ذائقہ میرے اندر ہی اندر پِگھلتا رہا
پتہ پتہ گِرا خاک پر رات تنہائی سے اٹ گئی
کروٹوں پر نئی کروٹیں کھیت میں ہل بدلتا رہا