ہل ٹیڑھا ہے
شیشے کے بدن میں رہتا ہوں
میں آج ہوں میرے آگے پیچھے کل ہیں
پھر بھی تن تنہا ہوں
حاملہ مٹی کے اوپر سینے کے بل لیٹا ہوں
سر اور پیر تصادم میں ہیں
ہل ٹیڑھا ہے
شیشے کے بدن میں رہتا ہوں
میں آج ہوں میرے آگے پیچھے کل ہیں
پھر بھی تن تنہا ہوں
حاملہ مٹی کے اوپر سینے کے بل لیٹا ہوں
سر اور پیر تصادم میں ہیں
نیک دل لڑکیو
آرزو کی نمائش سے گزرو تو چاروں طرف دیکھنا
اور پھر جب تمہارے لہو میں کسی کا لہو سرسرائے
ستاروں میں آنکھیں چھپا کر دعا مانگنا
قیدیوں شاعروں اور محکوم آبادیوں کے لیے
اور بیمار بچوں کی ماں کے لیے
اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر
نئی سڑکوں کے نقشے کارخانے
اونچے اونچے پل
مِرے منصوبے دیکھو اور کتابوں میں پڑھو
اس نے کہا؛ میرے بدن پر ہاتھ بھی پھیرو
مگر سوراخ سے انگلی الگ رکھو
زمیں ان کے لیے پھول کھلاتی ہے
جب آگ جلی ناف کے نیچے تو زمیں پھیل گئی
آگ جلی اور بدن پھیل گئے
آنکھوں کی آوارگی بے رنگ ہوئی
دھوپ ہوا چاندنی
سب بستیوں میں خاک اڑی
چپ چاپ گزر جاؤ
یہاں ہارن بجانے کی اجازت نہیں
اور میں نے تمنا کا بھرم کھول دیا ہے کہ سمندر کی ہوا
سینے سے ٹکرائے تو پردہ نہ رہے
اس کی مہک سر پہ کفن باندھ کے نکلی ہے
ہر اک راستے ہر موڑ پہ آواز لگاتی ہے