Showing posts with label عباس اطہر. Show all posts
Showing posts with label عباس اطہر. Show all posts

Monday, 28 February 2022

شیشے کے بدن میں رہتا ہوں

 ہل ٹیڑھا ہے


شیشے کے بدن میں رہتا ہوں

میں آج ہوں میرے آگے پیچھے کل ہیں

پھر بھی تن تنہا ہوں

حاملہ مٹی کے اوپر سینے کے بل لیٹا ہوں

سر اور پیر تصادم میں ہیں

Saturday, 22 January 2022

نیک دل لڑکیو یاد کرنا انہیں

 نیک دل لڑکیو

آرزو کی نمائش سے گزرو تو چاروں طرف دیکھنا

اور پھر جب تمہارے لہو میں کسی کا لہو سرسرائے

ستاروں میں آنکھیں چھپا کر دعا مانگنا

قیدیوں شاعروں اور محکوم آبادیوں کے لیے

اور بیمار بچوں کی ماں کے لیے

Thursday, 23 December 2021

اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر

 اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر


نئی سڑکوں کے نقشے کارخانے

اونچے اونچے پل 

مِرے منصوبے دیکھو اور کتابوں میں پڑھو

اس نے کہا؛ میرے بدن پر ہاتھ بھی پھیرو

مگر سوراخ سے انگلی الگ رکھو

Wednesday, 22 December 2021

زمیں ان کے لیے پھول کھلاتی ہے

 زمیں ان کے لیے پھول کھلاتی ہے


جب آگ جلی ناف کے نیچے تو زمیں پھیل گئی

آگ جلی اور بدن پھیل گئے

آنکھوں کی آوارگی بے رنگ ہوئی

دھوپ ہوا چاندنی

سب بستیوں میں خاک اڑی

Tuesday, 21 December 2021

چپ چاپ گزر جاؤ یہاں ہارن بجانے کی اجازت نہیں

 چپ چاپ گزر جاؤ


یہاں ہارن بجانے کی اجازت نہیں

اور میں نے تمنا کا بھرم کھول دیا ہے کہ سمندر کی ہوا

سینے سے ٹکرائے تو پردہ نہ رہے

اس کی مہک سر پہ کفن باندھ کے نکلی ہے

ہر اک راستے ہر موڑ پہ آواز لگاتی ہے