Saturday, 25 July 2026

اسم ظاہر سے ترے جو کہ خبردار ہوا

 اسمِ ظاہر سے تِرے جو کہ خبردار ہوا

تا ابد دِید سے پھر اپنی وہ بیزار ہوا

تیری وحدت میں خریداری کا دعویٰ کس کو

حُسن کا اپنے تُو ہی آپ خریدار ہوا

خُود کو کھو کے نہ لیا جس نے کبھی نام اللہ

حق اگر پُوچھو وہی مخزن اسرار ہوا

ایک موسیٰ ہی نہیں رہ گئے سارے محروم

برملا کس کو اسد کب مِرا دیدار ہوا


اسد چشتی

سید تصدق علی اسد

No comments:

Post a Comment