Showing posts with label مدیحہ شوق. Show all posts
Showing posts with label مدیحہ شوق. Show all posts

Wednesday, 16 February 2022

وفا کرو گے، نبھاؤ گئے تم تو کیا ملے گا

 وفا کرو گے، نبھاؤ گئے تم تو کیا ملے گا

یہ لفظ ہیں بس انہیں نبھاؤ، صلہ ملے گا

میں آج خود سے بھی ہار بیٹھی ہوں زندگی میں

وہ جس کو آنا، وہ جس کو ملنا ہے، آ ملے گا

جو چاروں جانب سے تیر کھانے کو آ گئے ہیں

انہیں بھی یاں پر مرے خدا کا پتہ ملے گا

Tuesday, 8 June 2021

عشق کا وجدان یارا عشق ہے

 عشق کا وجدان یارا عشق ہے

سر جھکا سارے کا سارا عشق ہے

چاند تارے بادلوں کی اوٹ سے

کہہ رہے تھے یار پیارا عشق ہے

عقل کی رعنائیاں تک جھوم کر

کہہ رہی ہیں سب خسارا عشق ہے

Monday, 7 June 2021

میرے ہوتے تم پریشاں ہو مرا کیا فائدہ

 میرے ہوتے تم پریشاں ہو مِرا کیا فائدہ

پُر خطر رستوں میں بے جاں ہو مرا کیا فائدہ

اب تو چاروں اور سے آنے لگی ہے یہ صدا

عاشقوں کے واسطے جاں ہو مرا کیا فائدہ

زندگی میں نے یہ اپنی تم پہ کر دی ہے نثار

تم کسی کا جزوِ ایماں ہو مرا کیا فائدہ

وہم و گماں کے سلسلے محسوس ہوتے ہو

 وہم و گماں کے سلسلے محسوس ہوتے ہو

تم مجھ کو میرے سامنے محسوس ہوتے ہو

اے میرے صحن کے کوئی بوسیدہ سے درخت

جھُولا جھُلاتے تم بڑے محسوس ہوتے ہو

تیرہ شبوں میں میرے نہ کچھ ہو جب آس پاس

کمرے میں جل رہے دِیے محسوس ہوتے ہو

Sunday, 6 June 2021

یہ جو تھم تھم کے اتنا بہتا ہے

 یہ جو تھم تھم کے اتنا بہتا ہے

میری آنکھوں میں کیسا دریا ہے

میں تو یوں ہی اُداس ہوں چھت پر

چاند کیوں آسماں پہ تنہا ہے؟

جانتی اس کے خال و خد بھی نہیں

مجھ میں جو شخص چھُپ کے بیٹھا ہے

Saturday, 17 April 2021

خار رستے ہیں ترا ساتھ ضروری ہے بہت

 خار رستے ہیں تِرا ساتھ ضروری ہے بہت

واسطے میرے، تِری ذات ضروری ہے بہت

اک تو احباب بھی نالاں ہیں مِرے ہونے سے

دوسرا زندگی میں مات ضروری ہے بہت

جس گھڑی شانوں پہ کچھ بوجھ سا لگتا ہے مجھے

اس گھڑی جاناں تِرا ساتھ ضروری ہے بہت