وفا کرو گے، نبھاؤ گئے تم تو کیا ملے گا
یہ لفظ ہیں بس انہیں نبھاؤ، صلہ ملے گا
میں آج خود سے بھی ہار بیٹھی ہوں زندگی میں
وہ جس کو آنا، وہ جس کو ملنا ہے، آ ملے گا
جو چاروں جانب سے تیر کھانے کو آ گئے ہیں
انہیں بھی یاں پر مرے خدا کا پتہ ملے گا
وفا کرو گے، نبھاؤ گئے تم تو کیا ملے گا
یہ لفظ ہیں بس انہیں نبھاؤ، صلہ ملے گا
میں آج خود سے بھی ہار بیٹھی ہوں زندگی میں
وہ جس کو آنا، وہ جس کو ملنا ہے، آ ملے گا
جو چاروں جانب سے تیر کھانے کو آ گئے ہیں
انہیں بھی یاں پر مرے خدا کا پتہ ملے گا
عشق کا وجدان یارا عشق ہے
سر جھکا سارے کا سارا عشق ہے
چاند تارے بادلوں کی اوٹ سے
کہہ رہے تھے یار پیارا عشق ہے
عقل کی رعنائیاں تک جھوم کر
کہہ رہی ہیں سب خسارا عشق ہے
میرے ہوتے تم پریشاں ہو مِرا کیا فائدہ
پُر خطر رستوں میں بے جاں ہو مرا کیا فائدہ
اب تو چاروں اور سے آنے لگی ہے یہ صدا
عاشقوں کے واسطے جاں ہو مرا کیا فائدہ
زندگی میں نے یہ اپنی تم پہ کر دی ہے نثار
تم کسی کا جزوِ ایماں ہو مرا کیا فائدہ
وہم و گماں کے سلسلے محسوس ہوتے ہو
تم مجھ کو میرے سامنے محسوس ہوتے ہو
اے میرے صحن کے کوئی بوسیدہ سے درخت
جھُولا جھُلاتے تم بڑے محسوس ہوتے ہو
تیرہ شبوں میں میرے نہ کچھ ہو جب آس پاس
کمرے میں جل رہے دِیے محسوس ہوتے ہو
یہ جو تھم تھم کے اتنا بہتا ہے
میری آنکھوں میں کیسا دریا ہے
میں تو یوں ہی اُداس ہوں چھت پر
چاند کیوں آسماں پہ تنہا ہے؟
جانتی اس کے خال و خد بھی نہیں
مجھ میں جو شخص چھُپ کے بیٹھا ہے
خار رستے ہیں تِرا ساتھ ضروری ہے بہت
واسطے میرے، تِری ذات ضروری ہے بہت
اک تو احباب بھی نالاں ہیں مِرے ہونے سے
دوسرا زندگی میں مات ضروری ہے بہت
جس گھڑی شانوں پہ کچھ بوجھ سا لگتا ہے مجھے
اس گھڑی جاناں تِرا ساتھ ضروری ہے بہت