تم نے دیکھا ہے کبھی غور سے کیا لگتا ہے
شام کے وقت دِیا شمس نما لگتا ہے
میں نہیں چاہتا چھوڑوں یہ اداسی تیری
دل مِرا اب بھی کہیں تیرے سِوا لگتا ہے
چاہے جتنا بھی پرانا ہو کسی کا چہرہ
اس کی گلیوں سے گزرتے ہی نیا لگتا ہے
تم نے دیکھا ہے کبھی غور سے کیا لگتا ہے
شام کے وقت دِیا شمس نما لگتا ہے
میں نہیں چاہتا چھوڑوں یہ اداسی تیری
دل مِرا اب بھی کہیں تیرے سِوا لگتا ہے
چاہے جتنا بھی پرانا ہو کسی کا چہرہ
اس کی گلیوں سے گزرتے ہی نیا لگتا ہے
لوگ کچھ زندگی کے چکر میں
مر رہے ہیں اسی کے چکر میں
کوئی مجھ سے بچھڑنا چاہتا ہے
اور میں خود کشی کے چکر میں
یار! تُو مجھ کو چھوڑ، اپنی بتا
آج تک ہے اُسی کے چکر میں؟
تمام شہر ہی جس کی دہائی دیتا ہے
وہ چہرہ دیکھیے کس کو دکھائی دیتا ہے
میں مانتا ہی نہیں ہوں وگرنہ تیرے عوض
خدا تو دینے کو اب بھی خدائی دیتا ہے
وہی تو رہ گیا پیچھے جو اُس کے ساتھ چلا
وہ تیز رو بھلا کس کو مِلائی دیتا ہے
سنتا رہتا ہوں توجہ سے بڑی بولتی ہے
رات کے پچھلے پہر کوئی پری بولتی ہے
لمس تیرا بھی مِرے یار کوئی جادو ہے
جس کو تو چُھو لے وہی چیز بڑی بولتی ہے
اپنی جانب سے تو پورا ہی بنایا اس نے
پھر بھی اس جسم سے اک تیری کمی بولتی ہے
تجھ سے ملی ہر تہمت کا کیا کرنا ہے
اتنی ڈھیر محبت کا کیا کرنا ہے
میرا کیا ہے، میں تو ہنستا رہتا ہوں
اپنی سوچ تُو، وحشت کا کیا کرنا ہے
میرے ساتھ چلے گا تُو یا رہنے دوں
کچھ تو بول، اب ہجرت کا کیا کرنا ہے
اس سے پہلے کہ کوئی اور اڑا لے جائے
جس کے ہاتھوں سے گرے ہیں وہ اٹھا لے جائے
ان دنوں دیکھ مِری جان! مِری آنکھوں میں
اتنا پانی ہے کہ سب خواب بہا لے جائے
کوئی بھی شخص نہیں رکھتا تِری خیر خبر
جس سے پوچھوں وہ پریشانی میں ڈالے جائے