Showing posts with label طارق سلطانی. Show all posts
Showing posts with label طارق سلطانی. Show all posts

Thursday, 25 May 2023

تم نے دیکھا ہے کبھی غور سے کیا لگتا ہے

 تم نے دیکھا ہے کبھی غور سے کیا لگتا ہے 

شام کے وقت دِیا شمس نما لگتا ہے 

میں نہیں چاہتا چھوڑوں یہ اداسی تیری

دل مِرا اب بھی کہیں تیرے سِوا لگتا ہے

چاہے جتنا بھی پرانا ہو کسی کا چہرہ

اس کی گلیوں سے گزرتے ہی نیا لگتا ہے

Tuesday, 25 April 2023

لوگ کچھ زندگی کے چکر میں

 لوگ کچھ زندگی کے چکر میں 

مر رہے ہیں اسی کے چکر میں 

کوئی مجھ سے بچھڑنا چاہتا ہے 

اور میں خود کشی کے چکر میں 

یار! تُو مجھ کو چھوڑ، اپنی بتا

آج تک ہے اُسی کے چکر میں؟ 

Monday, 18 April 2022

تمام شہر ہی جس کی دہائی دیتا ہے

 تمام شہر ہی جس کی دہائی دیتا ہے

وہ چہرہ دیکھیے کس کو دکھائی دیتا ہے

میں مانتا ہی نہیں ہوں وگرنہ تیرے عوض

خدا تو دینے کو اب بھی خدائی دیتا ہے

وہی تو رہ گیا پیچھے جو اُس کے ساتھ چلا

وہ تیز رو بھلا کس کو مِلائی دیتا ہے

Thursday, 3 March 2022

سنتا رہتا ہوں توجہ سے بڑی بولتی ہے

 سنتا رہتا ہوں توجہ سے بڑی بولتی ہے

رات کے پچھلے پہر کوئی پری بولتی ہے

لمس تیرا بھی مِرے یار کوئی جادو ہے

جس کو تو چُھو لے وہی چیز بڑی بولتی ہے

اپنی جانب سے تو پورا ہی بنایا اس نے

پھر بھی اس جسم سے اک تیری کمی بولتی ہے

Tuesday, 15 February 2022

تجھ سے ملی ہر تہمت کا کیا کرنا ہے

 تجھ سے ملی ہر تہمت کا کیا کرنا ہے 

اتنی ڈھیر محبت کا کیا کرنا ہے 

میرا کیا ہے، میں تو ہنستا رہتا ہوں 

اپنی سوچ تُو، وحشت کا کیا کرنا ہے 

میرے ساتھ چلے گا تُو یا رہنے دوں

کچھ تو بول، اب ہجرت کا کیا کرنا ہے

Saturday, 12 February 2022

اس سے پہلے کہ کوئی اور اڑا لے جائے

 اس سے پہلے کہ کوئی اور اڑا لے جائے

جس کے ہاتھوں سے گرے ہیں وہ اٹھا لے جائے

ان دنوں دیکھ مِری جان! مِری آنکھوں میں

اتنا پانی ہے کہ سب خواب بہا لے جائے

کوئی بھی شخص نہیں رکھتا تِری خیر خبر

جس سے پوچھوں وہ پریشانی میں ڈالے جائے