تجھ سے ملی ہر تہمت کا کیا کرنا ہے
اتنی ڈھیر محبت کا کیا کرنا ہے
میرا کیا ہے، میں تو ہنستا رہتا ہوں
اپنی سوچ تُو، وحشت کا کیا کرنا ہے
میرے ساتھ چلے گا تُو یا رہنے دوں
کچھ تو بول، اب ہجرت کا کیا کرنا ہے
دل کا کالا ہے تو پھر تُو بھاڑ میں جا
میں نے گوری رنگت کا کیا کرنا ہے
طارق پاک حسینؑ کا ماننے والا ہوں
ہر اک ہاتھ پہ بیعت کا کیا کرنا ہے
طارق عزیز سلطانی
No comments:
Post a Comment