Tuesday, 15 February 2022

تجھ سے ملی ہر تہمت کا کیا کرنا ہے

 تجھ سے ملی ہر تہمت کا کیا کرنا ہے 

اتنی ڈھیر محبت کا کیا کرنا ہے 

میرا کیا ہے، میں تو ہنستا رہتا ہوں 

اپنی سوچ تُو، وحشت کا کیا کرنا ہے 

میرے ساتھ چلے گا تُو یا رہنے دوں

کچھ تو بول، اب ہجرت کا کیا کرنا ہے

دل کا کالا ہے تو پھر تُو بھاڑ میں جا

میں نے گوری رنگت کا کیا کرنا ہے

طارق پاک حسینؑ کا ماننے والا ہوں 

ہر اک ہاتھ پہ بیعت کا کیا کرنا ہے 


طارق عزیز سلطانی

No comments:

Post a Comment