آنکھ سے چھلکے ہوئے ہر جام پہ رونا آیا
ضبط کی کوششِ ناکام پہ رونا آیا
غم کی تصویر بنے بیٹھے ہیں تِرے جانے سے
ہم کو سہمے ہوئے در و بام پہ رونا آیا
جو لگایا میرے دامنِ صد چاک پہ تُو نے
مجھ کو جاناں تیرے الزام پہ رونا آیا
آنکھ سے چھلکے ہوئے ہر جام پہ رونا آیا
ضبط کی کوششِ ناکام پہ رونا آیا
غم کی تصویر بنے بیٹھے ہیں تِرے جانے سے
ہم کو سہمے ہوئے در و بام پہ رونا آیا
جو لگایا میرے دامنِ صد چاک پہ تُو نے
مجھ کو جاناں تیرے الزام پہ رونا آیا
اپنی آنکھوں میں خواب آنے دے
رت جگوں کے عذاب آنے دے
میرے لب پہ سوال ٹھہرا ہے
اپنے دل سے جواب آنے دے
اک نظر کا سوال ہے جاناں
میرے حصے ثواب آنے دے
محبت بانجھ ہوتی جا رہی ہے
دبے پاؤں تعلق
گھر سے باہر جا رہا ہے
خوشی بھی اب
لحاف اوڑھے خراٹے لے رہی ہے
اور جذبوں کی حدت بھی
جو ندیا کے کنارے پر لگے
اک پیڑ پہ لٹکا ہوا
اک گھونسلہ تھا
وہ اب گرنے کی حد پہ آ چکا ہے
اور جنگل میں گھنی سی گھاس کی چادر بھی
اب کے سوکھتی ہے
مِرے ہمسفر
جس جگہ تُو نے چھوڑا
یہاں سے کئی کوس تک کچھ نہیں ہے
نہ لفظوں کا جھرنا
نہ آنکھوں کی بستی
نہ ہی دائرہ ہے کوئی بازوؤں کا
خواب، نچڑے پڑے ہیں مقتل میں
اشک سہمے پڑے ہیں مقتل میں
نبض کاٹی گئی ہے جذبوں کی
سانس اکھڑے پڑے ہیں مقتل میں
جیسے سورج ڈھلا ہو میدان میں
رنگ بکھرے پڑے ہیں مقتل میں
ہمارا کیا، جو مٹی ہیں
مزاجِ یار کے اک چاک پہ رکھی ہوئی مٹی
ہمیں تو مرمریں ہاتھوں سے
کچھ بننے کی خواہش ہے
مزاجِ یار کی مرضی ہے
جو چاہے شکل دے دے
تنویر سلیمی
گرد، اڑ اڑ کے
چہرے پہ پڑتی رہی
آبلے بن گئے
پاؤں کٹتے رہے
حوصلوں کی بیساکھی
لیے ہاتھ میں
ویلنٹائن ڈے/مردوں سے خطاب
عورت سے محبت کا کوئی
اک خاص دن ہے کیا؟
عورت سے محبت تو جبلت ہے
عورت ماں ہو، جنت ہے
جو بیٹی ہو، تو رحمت ہے