Showing posts with label تنویر سلیمی. Show all posts
Showing posts with label تنویر سلیمی. Show all posts

Thursday, 1 April 2021

آنکھ سے چھلکے ہوئے ہر جام پہ رونا آیا

 آنکھ سے چھلکے ہوئے ہر جام پہ رونا آیا

ضبط کی کوششِ ناکام پہ رونا آیا

غم کی تصویر بنے بیٹھے ہیں تِرے جانے سے

ہم کو سہمے ہوئے در و بام پہ رونا آیا

جو لگایا میرے دامنِ صد چاک پہ تُو نے

مجھ کو جاناں تیرے الزام پہ رونا آیا

Monday, 1 March 2021

اپنی آنکھوں میں خواب آنے دے

 اپنی آنکھوں میں خواب آنے دے

رت جگوں کے عذاب آنے دے

میرے لب پہ سوال ٹھہرا ہے

اپنے دل سے جواب آنے دے

اک نظر کا سوال ہے جاناں 

میرے حصے ثواب آنے دے

Saturday, 27 February 2021

محبت بانجھ ہوتی جا رہی ہے

 محبت بانجھ ہوتی جا رہی ہے 


دبے پاؤں تعلق

گھر سے باہر جا رہا ہے 

خوشی بھی اب 

لحاف اوڑھے خراٹے لے رہی ہے

اور جذبوں کی حدت بھی

Thursday, 25 February 2021

جو ندیا کے کنارے پر لگے اک پیڑ پہ

 جو ندیا کے کنارے پر لگے

اک پیڑ پہ لٹکا ہوا

اک گھونسلہ تھا

وہ اب گرنے کی حد پہ آ چکا ہے

اور جنگل میں گھنی سی گھاس کی چادر بھی

اب کے سوکھتی ہے

Wednesday, 24 February 2021

مرے ہمسفر جس جگہ تو نے چھوڑا

 مِرے ہمسفر

جس جگہ تُو نے چھوڑا

یہاں سے کئی کوس تک کچھ نہیں ہے

نہ لفظوں کا جھرنا

نہ آنکھوں کی بستی

نہ ہی دائرہ ہے کوئی بازوؤں کا

خواب نچڑے پڑے ہیں مقتل میں

 خواب، نچڑے پڑے ہیں مقتل میں 

اشک سہمے پڑے ہیں مقتل میں 

نبض کاٹی گئی ہے جذبوں کی 

سانس اکھڑے پڑے ہیں مقتل میں 

جیسے سورج ڈھلا ہو میدان میں 

رنگ بکھرے پڑے ہیں مقتل میں 

Tuesday, 23 February 2021

ہمارا کیا جو مٹی ہیں

 ہمارا کیا، جو مٹی ہیں 

مزاجِ یار کے اک چاک پہ رکھی ہوئی مٹی

ہمیں تو مرمریں ہاتھوں سے 

کچھ بننے کی خواہش ہے

مزاجِ یار کی مرضی ہے

جو چاہے شکل دے دے


تنویر سلیمی

Saturday, 20 February 2021

گرد اڑ اڑ کے چہرے پہ پڑتی رہی

 گرد، اڑ اڑ کے 

چہرے پہ پڑتی رہی

آبلے بن گئے

پاؤں کٹتے رہے

حوصلوں کی بیساکھی 

لیے ہاتھ میں

Tuesday, 16 February 2021

ویلنٹائن ڈے؛عورت سے محبت کا کوئی اک خاص دن ہے کیا

 ویلنٹائن ڈے/مردوں سے خطاب


عورت سے محبت کا کوئی 

اک خاص دن ہے کیا؟

عورت سے محبت تو جبلت ہے

عورت ماں ہو، جنت ہے 

جو بیٹی ہو، تو رحمت ہے