Showing posts with label گیان چند جین. Show all posts
Showing posts with label گیان چند جین. Show all posts

Saturday, 26 February 2022

کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے

 کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے

آدمی جذبات‌ و احساسات کا طوفان ہے

اشتراکیت مِرا دین، اور مِرا ایمان ہے

کاش موٹر لے سکوں میں یہ مِرا ارمان ہے

آہ اس دانشکدے میں کس قدر ہے قحط حسن

جب سے آیا ہوں یہاں بزم نظر ویران ہے

Monday, 10 January 2022

ڈگمگاتا لڑکھڑاتا جھومتا جاتا ہوں میں

 ڈگمگاتا، لڑکھڑاتا، جھومتا جاتا ہوں میں

تجھ تک اے بابِ فنا سینے کے بل آتا ہوں میں

شہر کی باریکیوں میں پھنس گیا ہوں اس طرح

چین کی اک سانس کی مہلت نہیں پاتا ہوں میں

جب بھی ریگستانوں میں جانے کا ہوتا اتفاق

گھٹنے گھٹنے ذات کی پرتوں میں دھنس جاتا ہوں میں

Sunday, 19 December 2021

ہوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے

 ہُوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے

کسی کی زُلف تلے ہر سمے سویرا ہے

حکایتِ لب و رُخسار میں گزار دیں وقت

جہاں میں صرف گھڑی دو گھڑی بسیرا ہے

جلاؤ گھر کی منڈیروں پہ چشم و دل کے دیے

بہاؤ گیت بِرہ کے بہت اندھیرا ہے

Saturday, 18 December 2021

ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا

 ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا

نقش بر آب ہوں لہروں میں سما جاؤں گا

دھار پر اپنے تعقل کو چڑھا جاؤں گا

رسمِ آزادیٔ افکار اٹھا جاؤں گا

یہ عقائد ہیں چھلاوے انہیں افشا کر دے

معنیٔ سیمیا دنیا کو بتا جاؤں گا

Friday, 17 December 2021

پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا

 پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا

بادل کا آوارہ ٹکڑا، کھویا کھویا، تنہا تنہا

پچھم دیس کے فرزانوں نے نصف جہاں سے شہر بسائے

ان میں پیر بزرگ ارسطو بیٹھا رہتا تنہا تنہا

کتنا بھیڑ بھڑکا جگ میں، کتنا شور شرابہ لیکن

بستی بستی، کوچہ کوچہ، چپا چپا، تنہا تنہا