کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے
آدمی جذبات و احساسات کا طوفان ہے
اشتراکیت مِرا دین، اور مِرا ایمان ہے
کاش موٹر لے سکوں میں یہ مِرا ارمان ہے
آہ اس دانشکدے میں کس قدر ہے قحط حسن
جب سے آیا ہوں یہاں بزم نظر ویران ہے
کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے
آدمی جذبات و احساسات کا طوفان ہے
اشتراکیت مِرا دین، اور مِرا ایمان ہے
کاش موٹر لے سکوں میں یہ مِرا ارمان ہے
آہ اس دانشکدے میں کس قدر ہے قحط حسن
جب سے آیا ہوں یہاں بزم نظر ویران ہے
ڈگمگاتا، لڑکھڑاتا، جھومتا جاتا ہوں میں
تجھ تک اے بابِ فنا سینے کے بل آتا ہوں میں
شہر کی باریکیوں میں پھنس گیا ہوں اس طرح
چین کی اک سانس کی مہلت نہیں پاتا ہوں میں
جب بھی ریگستانوں میں جانے کا ہوتا اتفاق
گھٹنے گھٹنے ذات کی پرتوں میں دھنس جاتا ہوں میں
ہُوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے
کسی کی زُلف تلے ہر سمے سویرا ہے
حکایتِ لب و رُخسار میں گزار دیں وقت
جہاں میں صرف گھڑی دو گھڑی بسیرا ہے
جلاؤ گھر کی منڈیروں پہ چشم و دل کے دیے
بہاؤ گیت بِرہ کے بہت اندھیرا ہے
ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا
نقش بر آب ہوں لہروں میں سما جاؤں گا
دھار پر اپنے تعقل کو چڑھا جاؤں گا
رسمِ آزادیٔ افکار اٹھا جاؤں گا
یہ عقائد ہیں چھلاوے انہیں افشا کر دے
معنیٔ سیمیا دنیا کو بتا جاؤں گا
پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا
بادل کا آوارہ ٹکڑا، کھویا کھویا، تنہا تنہا
پچھم دیس کے فرزانوں نے نصف جہاں سے شہر بسائے
ان میں پیر بزرگ ارسطو بیٹھا رہتا تنہا تنہا
کتنا بھیڑ بھڑکا جگ میں، کتنا شور شرابہ لیکن
بستی بستی، کوچہ کوچہ، چپا چپا، تنہا تنہا