اس ایک شخص سے جو کوئی سلسلہ نہیں ہے
بھرے جہاں سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہے
ہمارا ہنسنا فقط منہ دکھائی ہے مولا
ہماری چیخ ہے یہ کوئی قہقہہ نہیں ہے
اندھیرا اپنی جگہ ہے مگر مِرے مولا
ہماری نیند پہ راتوں کا دبدبہ نہیں ہے
اس ایک شخص سے جو کوئی سلسلہ نہیں ہے
بھرے جہاں سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہے
ہمارا ہنسنا فقط منہ دکھائی ہے مولا
ہماری چیخ ہے یہ کوئی قہقہہ نہیں ہے
اندھیرا اپنی جگہ ہے مگر مِرے مولا
ہماری نیند پہ راتوں کا دبدبہ نہیں ہے
کتنا سنسان سا لگتا ہے نگر تیرے بغیر
کتنی ویران ہے یہ راہگزر تیرے بغیر
اب منڈیروں پہ کوئی آس پکھیرو بھی نہیں
یہ مکاں بن نہ سکا پھر کبھی گھر تیرے بغیر
میں نے جھیلا ہے تیرے ہجر کو لمحہ لمحہ
نِگلے جاتے ہیں مجھے شام و سحر تیرے بغیر
مطلبی لوگ ہیں، مطلب لیے در تک پہنچے
سانس کا مسئلہ لے کر تِرے گھر تک پہنچے
جو میرے قد کے برابر نہیں آ سکتے تھے
گاڑ کر مجھ کو زمیں میں مِرے سر تک پہنچے
وہ جو کشکول لیے پھرتے تھے قریہ قریہ
آج وہ لوگ سبھی لعل و گہر تک پہنچے
نہیں بحث کہ ہمیں سب نہیں مِلا مُرشد
مگر یہ دکھ یہ ہمیں کب نہیں ملا مرشد
یہ پانچ وقت جو مسجد کی سمت جاتے ہیں
تو ایک بار بھی کیا رب نہیں ملا مرشد؟
پھر ایک روز کہیں خود کو کھو دیا ہم نے
وہ ایک شخص ہمیں جب نہیں ملا مرشد
کوئی تعویذ نا دھاگے نا دوائیں شاہا
تیری باندی کی شفا ہیں تِری بانہیں شاہا
ایک داسی ہی نہیں یاں کئی ہیریں سسیاں
کاسۂ چشم تِری راہ میں بچھائیں شاہا
کس کو فرصت ہے سنے قصۂ محرومِ کرم
ہم کہاں جائیں، کسے حال سنائیں شاہا؟