Showing posts with label علی بیراگ. Show all posts
Showing posts with label علی بیراگ. Show all posts

Friday, 15 October 2021

اس ایک شخص سے جو کوئی سلسلہ نہیں ہے

 اس ایک شخص سے جو کوئی سلسلہ نہیں ہے

بھرے جہاں سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہے

ہمارا ہنسنا فقط منہ دکھائی ہے مولا

ہماری چیخ ہے یہ کوئی قہقہہ نہیں ہے

اندھیرا اپنی جگہ ہے مگر مِرے مولا

ہماری نیند پہ راتوں کا دبدبہ نہیں ہے

Wednesday, 13 October 2021

کتنا سنسان سا لگتا ہے نگر تیرے بغیر

 کتنا سنسان سا لگتا ہے نگر تیرے بغیر

کتنی ویران ہے یہ راہگزر تیرے بغیر

اب منڈیروں پہ کوئی آس پکھیرو بھی نہیں

یہ مکاں بن نہ سکا پھر کبھی گھر تیرے بغیر

میں نے جھیلا ہے تیرے ہجر کو لمحہ لمحہ

نِگلے جاتے ہیں مجھے شام و سحر تیرے بغیر

Tuesday, 12 October 2021

مطلبی لوگ ہیں مطلب لئے در تک پہنچے

 مطلبی لوگ ہیں، مطلب لیے در تک پہنچے

سانس کا مسئلہ لے کر تِرے گھر تک پہنچے

جو میرے قد کے برابر نہیں آ سکتے تھے

گاڑ کر مجھ کو زمیں میں مِرے سر تک پہنچے

وہ جو کشکول لیے پھرتے تھے قریہ قریہ

آج وہ لوگ سبھی لعل و گہر تک پہنچے

نہیں بحث کہ ہمیں سب نہیں ملا مرشد

 نہیں بحث کہ ہمیں سب نہیں مِلا مُرشد

مگر یہ دکھ یہ ہمیں کب نہیں ملا مرشد

یہ پانچ وقت جو مسجد کی سمت جاتے ہیں

تو ایک بار بھی کیا رب نہیں ملا مرشد؟

پھر ایک روز کہیں خود کو کھو دیا ہم نے

وہ ایک شخص ہمیں جب نہیں ملا مرشد

Monday, 11 October 2021

کوئی تعویذ نہ دھاگے نہ دوائیں شاہا

کوئی تعویذ نا دھاگے نا دوائیں شاہا 

تیری باندی کی شفا ہیں تِری بانہیں شاہا 

ایک داسی ہی نہیں یاں کئی ہیریں سسیاں 

کاسۂ چشم تِری راہ میں بچھائیں شاہا

کس کو فرصت ہے سنے قصۂ محرومِ کرم 

ہم کہاں جائیں، کسے حال سنائیں شاہا؟