کتنا سنسان سا لگتا ہے نگر تیرے بغیر
کتنی ویران ہے یہ راہگزر تیرے بغیر
اب منڈیروں پہ کوئی آس پکھیرو بھی نہیں
یہ مکاں بن نہ سکا پھر کبھی گھر تیرے بغیر
میں نے جھیلا ہے تیرے ہجر کو لمحہ لمحہ
نِگلے جاتے ہیں مجھے شام و سحر تیرے بغیر
شب کی آغوش میں تب خود کو چھپا لیتا ہوں
جب اجالوں سے مجھے لگتا ہے ڈر تیرے بغیر
مر گئے روح کے اجالے میرے اندر سارے
علی جم گئی ہے تیری راہ پہ نظر تیرے بغیر
علی بیراگ
No comments:
Post a Comment