Showing posts with label عرش صدیقی. Show all posts
Showing posts with label عرش صدیقی. Show all posts

Thursday, 14 July 2022

محبت لفظ تھا میرا

 محبت لفظ تھا میرا


میں اس شہر خرابی میں 

فقیروں کی طرح در در پھرا برسوں

اسے گلیوں میں سڑکوں پر

گھروں کی سرد دیواروں کے پیچھے ڈھونڈھتا تنہا

کہ وہ مل جائے تو تحفہ اسے دوں اپنی چاہت کا

Sunday, 20 December 2020

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے

 غم کی گرمی سے دل پِگھلتے رہے

تجرِبے آنسوؤں میں ڈھلتے رہے

ایک لمحے کو تم ملے تھے مگر

عمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے

صبح کے ڈر سے آنکھ لگ نہ سکی

رات بھر کروٹیں بدلتے رہے

Monday, 12 October 2020

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے

 زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے

زور دریا کا فقط بہنے میں ہے

رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگ

عافیت اب گھومتے رہنے میں ہے

کہہ رہے ہیں لوگ اس سے بات کر

جیسے وہ ظالم مِرے کہنے میں ہے

Sunday, 11 October 2020

آنکھوں میں کہیں اس کے طوفاں تو نہیں تھا

 آنکھوں میں کہیں اس کے طوفاں تو نہیں تھا

وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا

کیوں مجھ سے نہ کی اس نے سرِ بزم کوئی بات

میں سنگِ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا

ہاں حرفِ تسلی کے لیے تھا میں پریشاں

پہلو میں مِرے دل تھا، کہستاں تو نہیں تھا

Tuesday, 21 January 2020

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا

بند آنکھوں سے نہ حسنِ شب کا اندازہ لگا
محملِ دل سے نکل، سر کو ہوا تازہ لگا
دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر
گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا
ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ
ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
اے سنگدل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا
ڈوبا کچھ اس طرح سے مِرا آفتابِ دل
سب کچھ ہوا یہ پھر نہ سحر آشنا ہوا
یوں اسکے در پہ بیٹھے ہیں جیسے یہیں کے ہوں
ہائے! یہ دردِ عشق جو زنجیرِ پا ہوا

آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا

آخر ہم نے طَور پرانا چھوڑ دیا 
اس کی گلی میں آنا جانا چھوڑ دیا 
منظر بھی سب بانجھ رُتوں میں ڈوب گئے 
آنکھوں پر بھی پہرہ بٹھانا چھوڑ دیا 
نظروں پر کھڑکی کے پٹ دیوار کیے 
دروازوں میں اس کا سجانا چھوڑ دیا 

ہم حد اندمال سے بھی گئے

ہم حدِ اندمال سے بھی گئے
اب فریبِ خیال سے بھی گئے
دل پہ تالا،۔ زبان پر پہرہ
یعنی اب عرضِ حال سے بھی گئے
جامِ جَم کی تلاش لے ڈوبی
اپنے جامِ سفال سے بھی گئے

Tuesday, 6 December 2016

اسے کہنا دسمبر جا رہا ہے

اسے کہنا دسمبر جا رہا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس ایک اور 
ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون جسموں میں
سو جائے گا وہ نہ جاگے گا

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستورِ وفا ہے
تُو مثلِ رگِ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے
تُو اہل نظر ہے تو نہیں، تجھ کو خبر کیوں
پہلو میں ترے کوئی زمانےسے کھڑا ہے
ہم رکھتے ہیں دعویٰ کہ ہے قابو ہمیں دل پر
تُو سامنے آ جائے تو یہ بات جدا ہے

لو بزم سے وہ سر و خراماں نکل گیا

لو بزم سے وہ سر و خراماں نکل گیا
اب اٹھ کے بیٹھ جاؤ کہ طوفاں نکل گیا
بھولے سے اس نے پاس بلایا تھا ایک بار
میں سرخوشی میں سوئے بیاباں نکل گیا
وہ لمحۂ رواں کی طرح تھا ، نہ رُک سکا
ہاتھوں کو چھُو کے یار کا داماں نکل گیا

Saturday, 14 May 2016

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
جاری ہے ابھی گردشِ پا، سہمی ہوئی سی
دل ٹوٹ تو جاتا ہے، پہ گِریہ نہیں کرتا
کیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی
اٹھ جائے نظر بھُول کے گر جانبِ افلاک
ہونٹوں سے نکلتی ہے دعا سہمی ہوئی سی

Friday, 13 May 2016

عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا

عذابِ بے دلئ جانِ مبتلا، نہ گیا
جو سر پہ بار تھا اندیشۂ سزا، نہ گیا
خموش ہم بھی نہ تھے حضورِ یار، مگر
جو کہنا چاہتے تھے، بس وہی کہا نہ گیا
رہے مُصر کہ اٹھا دیں وہ انجمن سے ہمیں
ہم اٹھنا چاہتے تھے،۔۔ مگر اٹھا نہ گیا

دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو

دروازہ تِرے شہر کا وا چاہیے مجھ کو
جینا ہے مجھے، تازہ ہوا چاہیے مجھ کو
آزار بھی تھے سب سے زیادہ مِری جاں پر
الطاف بھی اوروں سے سوا چاہیے مجھ کو
وہ گرم ہوائیں ہیں کہ کھلتی نہیں آنکھیں
صحرا میں ہوں بادل کی رِدا چاہیے مجھ کو

Wednesday, 18 June 2014

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا
زہرِ وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا
خود اسکے پاس جاؤں نہ اسکو بلاؤں پاس
پایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا
اس پر غلط ہے عشق میں الزامِ دشمنی
قاتل ہے میرے حجلۂ جاں میں چھپا ہوا

بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے

بس ایک ہی کیفیئتِ دل صبح و مسا ہے
ہر لمحہ مِری عمر کا زنجیر بہ پا ہے
میں شہر کو کہتا ہوں بیاباں، کہ یہاں بھی
سایہ تِری دیوار کا کب سر پہ پڑا ہے
ہے وقت کہ کہتا ہے رکوں گا نہ میں اک پل
تُو ہے کہ ابھی بات مِری تول رہا ہے

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے

اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں
ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں، نہ جاگے گا

روشنی بن کہ ستاروں میں رواں رہتے ہیں

روشنی بن کہ ستاروں میں رواں رہتے ہیں
جسمِ افلاک میں ہم صورتِ جاں رہتے ہیں
ہیں دل دہر میں ہم صورتِ امیدِ نہاں
مثلِ ایماں رُخِ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں
جو نہ ڈھونڈو تو ہمارا کوئی مسکن ہی نہیں
اور دیکھو تو قریبِ رگِ جاں رہتے ہیں