محبت لفظ تھا میرا
میں اس شہر خرابی میں
فقیروں کی طرح در در پھرا برسوں
اسے گلیوں میں سڑکوں پر
گھروں کی سرد دیواروں کے پیچھے ڈھونڈھتا تنہا
کہ وہ مل جائے تو تحفہ اسے دوں اپنی چاہت کا
محبت لفظ تھا میرا
میں اس شہر خرابی میں
فقیروں کی طرح در در پھرا برسوں
اسے گلیوں میں سڑکوں پر
گھروں کی سرد دیواروں کے پیچھے ڈھونڈھتا تنہا
کہ وہ مل جائے تو تحفہ اسے دوں اپنی چاہت کا
غم کی گرمی سے دل پِگھلتے رہے
تجرِبے آنسوؤں میں ڈھلتے رہے
ایک لمحے کو تم ملے تھے مگر
عمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے
صبح کے ڈر سے آنکھ لگ نہ سکی
رات بھر کروٹیں بدلتے رہے
زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے
زور دریا کا فقط بہنے میں ہے
رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگ
عافیت اب گھومتے رہنے میں ہے
کہہ رہے ہیں لوگ اس سے بات کر
جیسے وہ ظالم مِرے کہنے میں ہے
آنکھوں میں کہیں اس کے طوفاں تو نہیں تھا
وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا
کیوں مجھ سے نہ کی اس نے سرِ بزم کوئی بات
میں سنگِ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا
ہاں حرفِ تسلی کے لیے تھا میں پریشاں
پہلو میں مِرے دل تھا، کہستاں تو نہیں تھا