Wednesday, 21 October 2026

کون کرتا ہے تمہیں منع کہیں جانے کو

 کون کرتا ہے تمہیں منع کہیں جانے کو

کون کہتا ہے کبھی تم سے ادھر آنے کو

زندگی نام ہے ہمت سے جیے جانے کا

قبل از وقت اجل کہتے ہیں گھبرانے کو

دشمن و دوست کی باتیں ہیں غضب کی باتیں

ہم نے کیا کیا نہ سنیں آپ کا کہلانے کو

رات بھر روئی ہے رخسارۂ گُل پر شبنم

نہ مگر روک سکی پھول کے مُرجھانے کو

عمر بھی زندگئ عیش کے دیکھا کیے خواب

ہم حقیقت ہی سمجھتے رہے افسانے کو

پارہ پارہ جو ہوا دل تو اسے کیا کہیے

کہتے ہیں خندۂ گُل غُنچہ کے کھِل جانے کو

اپنے ہی دل کی کہانی سے نہیں ہے فُرصت

کون سُنتا ہے کسی اور کے افسانے کو


نواب سید حکیم احمد نقوی حںفی بدایونی

No comments:

Post a Comment