کون کرتا ہے تمہیں منع کہیں جانے کو
کون کہتا ہے کبھی تم سے ادھر آنے کو
زندگی نام ہے ہمت سے جیے جانے کا
قبل از وقت اجل کہتے ہیں گھبرانے کو
دشمن و دوست کی باتیں ہیں غضب کی باتیں
ہم نے کیا کیا نہ سنیں آپ کا کہلانے کو
رات بھر روئی ہے رخسارۂ گُل پر شبنم
نہ مگر روک سکی پھول کے مُرجھانے کو
عمر بھی زندگئ عیش کے دیکھا کیے خواب
ہم حقیقت ہی سمجھتے رہے افسانے کو
پارہ پارہ جو ہوا دل تو اسے کیا کہیے
کہتے ہیں خندۂ گُل غُنچہ کے کھِل جانے کو
اپنے ہی دل کی کہانی سے نہیں ہے فُرصت
کون سُنتا ہے کسی اور کے افسانے کو
نواب سید حکیم احمد نقوی حںفی بدایونی
No comments:
Post a Comment