Showing posts with label عابد خورشید. Show all posts
Showing posts with label عابد خورشید. Show all posts

Tuesday, 16 July 2024

میں آنکھ سے پیاسا ہوں میری آس ہے عباس

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں آنکھ سے پیاسا ہوں، میری آس ہے عباسؑ

ہم تشنہ مزاجوں کی فقط پیاس ہے عباسؑ

وہ ایسا جرّی، ایسا جرّی، ایسا جرّی ہے

تلوار لرزتی ہے کہ میقاس ہے عباسؑ

سب کٹ چکے تو پھر میرے آقاؐ یہ پکارے

اے قافلے والو! کہیں عباسؑ ہے عباسؑ

Tuesday, 25 October 2022

کیسی افتاد ہے کہ ہوش میں آنے لگا ہے

 کیسی افتاد ہے کہ ہوش میں آنے لگا ہے

یہ مِرا شہر مجھے آنکھیں دکھانے لگا ہے

یوں بھی تنہائی یہ باہر سے نہیں آ سکتی

کوئی مجھ سے ہی مِرے بھید چھپانے لگا ہے

کچھ بھی ہو جائے یہ جنگل ہے یہ جنگل رہے گا

تُو یہاں پھر سے کوئی شہر بسانے لگا ہے

Thursday, 6 October 2022

کبھی کبھی تو دل کہتا ہے

 اب کے کچھ پیسے آئیں تو

سب سے پہلے

اس دھرتی کو رنگ کرنا ہے

چھت کو ہلکا نیلا کر کے

کہیں کہیں پہ سُرخی مائل عکس بھی ہوں تو

ٹھیک رہے گا

Wednesday, 5 October 2022

ندی پہاڑ گھنے جنگلوں میں چرچا تھا

 ندی پہاڑ گھنے جنگلوں میں چرچا تھا

وہ بے گناہ شجر بے لباس کتنا تھا

ملی تھی شاخ ثمر نور جسم و جاں کے لیے

جسے وہ ہاتھ لگا کر بُجھا بُجھا سا تھا

تمام عمر دل و جاں مراقبے میں رہے

لطیف تر لب و رُخسار کا وظیفہ تھا

Tuesday, 23 November 2021

اٹھا یہ بوجھ یہاں سے جہان خالی کر

 اُٹھا یہ بوجھ یہاں سے جہان خالی کر

وہ کہہ رہا ہے کہ میرا مکان خالی کر

کسی بھی سمت سے اُترے نہیں کوئی احکام

پہاڑ چھوڑ، دہکتی چٹان خالی کر

یہ شاملات میں آیا ہوا اثاثہ نہیں

سجا کے بیٹھا ہے خود کو دُکان خالی کر

Thursday, 25 February 2021

کسے خبر تھی کہ خود کو وہ یوں چھپائے گا

 کسے خبر تھی کہ خود کو وہ یوں چھپائے گا

اور اپنے نقش کو لہروں پہ چھوڑ جائے گا

خموش رہنے کی عادت بھی مار دیتی ہے

تمہیں یہ زہر تو اندر سے چاٹ جائے گا

کچھ اور دیر ٹھہر جاؤ خواب زاروں میں

وہ عکس ہی سہی لیکن نظر تو آئے گا