عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں آنکھ سے پیاسا ہوں، میری آس ہے عباسؑ
ہم تشنہ مزاجوں کی فقط پیاس ہے عباسؑ
وہ ایسا جرّی، ایسا جرّی، ایسا جرّی ہے
تلوار لرزتی ہے کہ میقاس ہے عباسؑ
سب کٹ چکے تو پھر میرے آقاؐ یہ پکارے
اے قافلے والو! کہیں عباسؑ ہے عباسؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں آنکھ سے پیاسا ہوں، میری آس ہے عباسؑ
ہم تشنہ مزاجوں کی فقط پیاس ہے عباسؑ
وہ ایسا جرّی، ایسا جرّی، ایسا جرّی ہے
تلوار لرزتی ہے کہ میقاس ہے عباسؑ
سب کٹ چکے تو پھر میرے آقاؐ یہ پکارے
اے قافلے والو! کہیں عباسؑ ہے عباسؑ
کیسی افتاد ہے کہ ہوش میں آنے لگا ہے
یہ مِرا شہر مجھے آنکھیں دکھانے لگا ہے
یوں بھی تنہائی یہ باہر سے نہیں آ سکتی
کوئی مجھ سے ہی مِرے بھید چھپانے لگا ہے
کچھ بھی ہو جائے یہ جنگل ہے یہ جنگل رہے گا
تُو یہاں پھر سے کوئی شہر بسانے لگا ہے
اب کے کچھ پیسے آئیں تو
سب سے پہلے
اس دھرتی کو رنگ کرنا ہے
چھت کو ہلکا نیلا کر کے
کہیں کہیں پہ سُرخی مائل عکس بھی ہوں تو
ٹھیک رہے گا
ندی پہاڑ گھنے جنگلوں میں چرچا تھا
وہ بے گناہ شجر بے لباس کتنا تھا
ملی تھی شاخ ثمر نور جسم و جاں کے لیے
جسے وہ ہاتھ لگا کر بُجھا بُجھا سا تھا
تمام عمر دل و جاں مراقبے میں رہے
لطیف تر لب و رُخسار کا وظیفہ تھا
اُٹھا یہ بوجھ یہاں سے جہان خالی کر
وہ کہہ رہا ہے کہ میرا مکان خالی کر
کسی بھی سمت سے اُترے نہیں کوئی احکام
پہاڑ چھوڑ، دہکتی چٹان خالی کر
یہ شاملات میں آیا ہوا اثاثہ نہیں
سجا کے بیٹھا ہے خود کو دُکان خالی کر
کسے خبر تھی کہ خود کو وہ یوں چھپائے گا
اور اپنے نقش کو لہروں پہ چھوڑ جائے گا
خموش رہنے کی عادت بھی مار دیتی ہے
تمہیں یہ زہر تو اندر سے چاٹ جائے گا
کچھ اور دیر ٹھہر جاؤ خواب زاروں میں
وہ عکس ہی سہی لیکن نظر تو آئے گا