مہمل الفاظ پر مشتمل غزل
اپنی من مانی کرنی ہے، سُننا وُننا کچھ بھی نہیں
باتیں واتیں عشق وِشق کی ہوتا ووتا کچھ بھی نہیں
فلم ولم سے سیکھے سپنے، ماتم واتم رنج و الم
ساری اداکاری ہے پیارے، ہوتا ووتا کچھ بھی نہیں
واویلا کرنے کو لوگو! کوئی بہانہ ہونا تھا
پاس واس ہے اپنے کیا؟ سو کھونا وونا کچھ بھی نہیں