Showing posts with label عابد اللہ غازی. Show all posts
Showing posts with label عابد اللہ غازی. Show all posts

Thursday, 4 April 2024

اپنی من مانی کرنی ہے سننا وننا کچھ بھی نہیں

 مہمل الفاظ پر مشتمل غزل


اپنی من مانی کرنی ہے، سُننا وُننا کچھ بھی نہیں

باتیں واتیں عشق وِشق کی ہوتا ووتا کچھ بھی نہیں

فلم ولم سے سیکھے سپنے، ماتم واتم رنج و الم

ساری اداکاری ہے پیارے، ہوتا ووتا کچھ بھی نہیں

واویلا کرنے کو لوگو! کوئی بہانہ ہونا تھا

پاس واس ہے اپنے کیا؟ سو کھونا وونا کچھ بھی نہیں

Tuesday, 12 December 2023

کام دے نہیں سکتیں منبروں سے تقریریں

 کام دے نہیں سکتیں منبروں سے تقریریں

درد اہلِ مشرق کا،۔ مغربی ہیں تدبیریں

بے ثبات بُنیادیں،۔ بے یقین تعمیریں

نقش سارے فریادی، کاغذی ہیں تصویریں

کاش ہم سمجھ سکتے، کام دے نہیں سکتیں

عِلم و فن کی دُنیا میں زنگ خُوردہ شمشِیریں

Saturday, 24 December 2022

وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم سے نئی محفلیں سجاؤ

 وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم سے، نئی محفلیں سجاؤ

انہیں ‌کیا خبر؟ ہیں تازہ مرے درد کے الاؤ

مِرا دل اٹھا سکے گا نہ امید کی کِرن بھی

مِری شامِ غم میں لوگو! نہ چراغ تم جلاؤ

مِرے حال پر رفیقو! نہ دوا کی فکر کیجو

مجھے وحشتِ جنوں ہے، کوئی سنگ آزماؤ

Thursday, 24 November 2022

وہ حوروں کی دنیا کی اک شاہزادی وہ پھولوں کی ملکہ

وہ حوروں کی دنیا کی اک شاہزادی، وہ پھولوں کی ملکہ، ستاروں کی رانی

وہ اک حُسنِ سادہ، وہ اک کیفِ رنگیں، وہ جاتا لڑکپن، وہ آتی جوانی

نہ آنکھوں میں‌ کاجل، نہ بالوں میں افشاں، نہ ہونٹوں پہ سرخی، نہ گالوں پہ لالی

ابھی اُس نے سیکھا نہ تھا دل لگانا، ابھی اُس کو آتی نہ تھی دل ستانی

وہ مخمور نظریں ہراساں ہراساں، وہ معصوم چہرہ چراغاں چراغاں

لبوں کا تبسم گُلستاں گُلستاں، وہ رنگین آنچل کہ ہے دھانی دھانی