Showing posts with label عینی زا سید. Show all posts
Showing posts with label عینی زا سید. Show all posts

Monday, 8 January 2024

قلب میں اتری حرا کی روشنی

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قلب میں اُتری حِرا کی روشنی

نُورِ وحدت ہے خُدا کی روشنی

کر کے روشن آپؐ نے شمعِ حرم

ساری دُنیا کو عطا کی روشنی

کر دئیے پیدا فصیل شب میں در

مرحبا صلے علیٰﷺ کی روشنی 

Monday, 11 April 2022

جاناں میں نے مار دیا ہے

 شرط


جاناں میں نے مار دیا ہے

دل کے سارے ارمانوں کو

آنکھ  کے سارے سپنوں کو بھی

تم کیا جانو

کتنا مشکل ہو جاتا ہے

Saturday, 19 March 2022

کوئی رسوائی کا ساماں نہیں ہونے دیتی

 کوئی رسوائی کا ساماں نہیں ہونے دیتی

جذبۂ عشق کو عریاں نہیں ہونے دیتی

فاصلوں میں بھی میں رکھتی ہوں توازن قائم

قربتوں کو بھی پشیماں نہیں ہونے دیتی

میں کبھی حد سے گزرنے نہیں دیتی اس کو

اور کبھی خود سے گریزاں نہیں ہونے دیتی

Saturday, 5 March 2022

کڑوے ہو گئے سارے خواب

کڑوے ہو گئے سارے خواب

بھیگی آنکھ کے کھارے خواب

وقت کی آندھی میں دھندلائے

سارے رستے سارے خواب

کتنے غموں کا بوجھ اٹھائیں

آخر یہ بے چارے خواب

Monday, 28 February 2022

سنو انجام واضح ہے

 سنو انجام واضح ہے

نہ لکھو داستانِ دل

مجھے معلوم ہے رانجھا

ہزارہ چھوڑ آیا تھا

پھرا تھا کس لئے مجنوں

حصار عشق میں تنہا

Friday, 25 February 2022

جسم کے ساتھ مری روح بھی تپتی ہے مگر

 جسم کے ساتھ مِری روح بھی تپتی ہے مگر

کون ہو گا جو مِری روح کے اندر جھانکے

اک تحیر ہے مِری آنکھ میں جم کر بیٹھا

آنکھ کھولوں تو کناروں پہ سمندر جھانکے

میری آواز پہ پہرہ ہے مِری سوچ پڑھو

جس کو پڑھنا ہو پڑھے لفظ کے اندر جھانکے

Tuesday, 8 February 2022

چاند کی فصیلیں تھیں اور مکان شیشے کا

 چاند کی فصیلیں تھیں اور مکان شیشے کا

میں نے خواب میں دیکھا سائبان شیشے کا

کیسے میں بچا لیتی خود کو تیز سورج سے

موم سے بنی تھی میں اور مکان شیشے کا

اس قدر اڑی مٹی نقش مٹ گئے سارے

دھول میں چھپا دیکھو کاروان شیشیے کا

Sunday, 6 February 2022

کانچ دل کی شہزادی

 کانچ دل کی شہزادی


بے حسوں کی بستی میں

جانے کیسے آ نکلی

کانچ دل کی شہزادی

ہر طرف ہے سنگ باری

ہر گلی میں شور و غل

Tuesday, 1 February 2022

یہ جرم درد محبت ہے اور اس کی سزا

 جدائی


یہ جرمِ دردِ محبت ہے اور اس کی سزا

محبتوں میں جدائی کا عکس ہوتی ہے

جدائی درد ہے نوحہ ہے آخری ہچکی

ہر ایک اہل محبت کا اندروں احساس

جدائی آنکھ سے ٹپکا ہو گرم آنسو

جدائی آنکھ سے نگلیں تو کھار جیسی ہے

Monday, 31 January 2022

کاٹ رہے ہیں سبھی دیکھو اپنی اپنی کھیتی

 کاٹ رہے ہیں سبھی دیکھو اپنی اپنی کھیتی

جیسا بویا ویسا کاٹیں، ریت کا بدلہ ریتی

کانٹے بوئے کانٹے پائیں کانٹوں کو کیوں بویا

پھولوں کی کھیتی ہے کاٹی پھول کا بیج جو بویا

کڑوا بویا کڑوا کاٹے، میٹھا بوئے میٹھا

کاٹ رہا ہے ہر کوئی دیکھو اپنے ہاتھ کا سینچا

Sunday, 30 January 2022

رفوگر میرے زخموں کو اگر سینا ہی ہے

رفو گر سے یکطرفہ مکالمہ


رفوگر میرے زخموں کو

اگر سینا ہی ہے تو نے

تو ایسا کر

بہت مضبوط سی ان کو

نا کوئی زخم ابھرے