عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلب میں اُتری حِرا کی روشنی
نُورِ وحدت ہے خُدا کی روشنی
کر کے روشن آپؐ نے شمعِ حرم
ساری دُنیا کو عطا کی روشنی
کر دئیے پیدا فصیل شب میں در
مرحبا صلے علیٰﷺ کی روشنی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلب میں اُتری حِرا کی روشنی
نُورِ وحدت ہے خُدا کی روشنی
کر کے روشن آپؐ نے شمعِ حرم
ساری دُنیا کو عطا کی روشنی
کر دئیے پیدا فصیل شب میں در
مرحبا صلے علیٰﷺ کی روشنی
شرط
جاناں میں نے مار دیا ہے
دل کے سارے ارمانوں کو
آنکھ کے سارے سپنوں کو بھی
تم کیا جانو
کتنا مشکل ہو جاتا ہے
کوئی رسوائی کا ساماں نہیں ہونے دیتی
جذبۂ عشق کو عریاں نہیں ہونے دیتی
فاصلوں میں بھی میں رکھتی ہوں توازن قائم
قربتوں کو بھی پشیماں نہیں ہونے دیتی
میں کبھی حد سے گزرنے نہیں دیتی اس کو
اور کبھی خود سے گریزاں نہیں ہونے دیتی
کڑوے ہو گئے سارے خواب
بھیگی آنکھ کے کھارے خواب
وقت کی آندھی میں دھندلائے
سارے رستے سارے خواب
کتنے غموں کا بوجھ اٹھائیں
آخر یہ بے چارے خواب
سنو انجام واضح ہے
نہ لکھو داستانِ دل
مجھے معلوم ہے رانجھا
ہزارہ چھوڑ آیا تھا
پھرا تھا کس لئے مجنوں
حصار عشق میں تنہا
جسم کے ساتھ مِری روح بھی تپتی ہے مگر
کون ہو گا جو مِری روح کے اندر جھانکے
اک تحیر ہے مِری آنکھ میں جم کر بیٹھا
آنکھ کھولوں تو کناروں پہ سمندر جھانکے
میری آواز پہ پہرہ ہے مِری سوچ پڑھو
جس کو پڑھنا ہو پڑھے لفظ کے اندر جھانکے
چاند کی فصیلیں تھیں اور مکان شیشے کا
میں نے خواب میں دیکھا سائبان شیشے کا
کیسے میں بچا لیتی خود کو تیز سورج سے
موم سے بنی تھی میں اور مکان شیشے کا
اس قدر اڑی مٹی نقش مٹ گئے سارے
دھول میں چھپا دیکھو کاروان شیشیے کا
کانچ دل کی شہزادی
بے حسوں کی بستی میں
جانے کیسے آ نکلی
کانچ دل کی شہزادی
ہر طرف ہے سنگ باری
ہر گلی میں شور و غل
جدائی
یہ جرمِ دردِ محبت ہے اور اس کی سزا
محبتوں میں جدائی کا عکس ہوتی ہے
جدائی درد ہے نوحہ ہے آخری ہچکی
ہر ایک اہل محبت کا اندروں احساس
جدائی آنکھ سے ٹپکا ہو گرم آنسو
جدائی آنکھ سے نگلیں تو کھار جیسی ہے
کاٹ رہے ہیں سبھی دیکھو اپنی اپنی کھیتی
جیسا بویا ویسا کاٹیں، ریت کا بدلہ ریتی
کانٹے بوئے کانٹے پائیں کانٹوں کو کیوں بویا
پھولوں کی کھیتی ہے کاٹی پھول کا بیج جو بویا
کڑوا بویا کڑوا کاٹے، میٹھا بوئے میٹھا
کاٹ رہا ہے ہر کوئی دیکھو اپنے ہاتھ کا سینچا
رفو گر سے یکطرفہ مکالمہ
رفوگر میرے زخموں کو
اگر سینا ہی ہے تو نے
تو ایسا کر
بہت مضبوط سی ان کو
نا کوئی زخم ابھرے