Monday, 11 April 2022

جاناں میں نے مار دیا ہے

 شرط


جاناں میں نے مار دیا ہے

دل کے سارے ارمانوں کو

آنکھ  کے سارے سپنوں کو بھی

تم کیا جانو

کتنا مشکل ہو جاتا ہے

بن سپنوں  کے جینا لیکن

جاناں میں نے مار دیئے  ہیں

اپنی آنکھ میں پلنے والے سارے سپنے 

مشکل تو ہے لیکن پھر بھی

تم نے ہی تو شرط رکھی تھی 

ساتھ نبھانے کی یہ جاناں

خود کو مٹا کر کے

ذات  کو اپنی مٹی  کر کے

نئے سرے سے خود کو بناؤ

خود کو میرے رنگ میں  ڈھالو

رنگ تمہارے  خود پہ چڑھا کر

میں نے خود کو مار دیا ہے

لفظ نا خوشبو

خواب نا سپنے

کوئی بھی ارمان نہیں ہے 

لیکن عینی

خود کو مٹانا اتنا بھی

آسان نہیں ہے 


عینی زا سید

No comments:

Post a Comment