شرط
جاناں میں نے مار دیا ہے
دل کے سارے ارمانوں کو
آنکھ کے سارے سپنوں کو بھی
تم کیا جانو
کتنا مشکل ہو جاتا ہے
بن سپنوں کے جینا لیکن
جاناں میں نے مار دیئے ہیں
اپنی آنکھ میں پلنے والے سارے سپنے
مشکل تو ہے لیکن پھر بھی
تم نے ہی تو شرط رکھی تھی
ساتھ نبھانے کی یہ جاناں
خود کو مٹا کر کے
ذات کو اپنی مٹی کر کے
نئے سرے سے خود کو بناؤ
خود کو میرے رنگ میں ڈھالو
رنگ تمہارے خود پہ چڑھا کر
میں نے خود کو مار دیا ہے
لفظ نا خوشبو
خواب نا سپنے
کوئی بھی ارمان نہیں ہے
لیکن عینی
خود کو مٹانا اتنا بھی
آسان نہیں ہے
عینی زا سید
No comments:
Post a Comment