آخری ساعت کے نام
کرن کے رتھ پر سوار ہو کر
ندی کی لہروں پہ چاند اپنی
تمام روداد لکھ چکا ہے
نئی اُڑانیں
طویل رستہ
بسیط سمتیں
آخری ساعت کے نام
کرن کے رتھ پر سوار ہو کر
ندی کی لہروں پہ چاند اپنی
تمام روداد لکھ چکا ہے
نئی اُڑانیں
طویل رستہ
بسیط سمتیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الٰہی اپنے کرم سے عنایتیں کر دے
مِرے نصیبِ سخن کی ذہانتیں کر دے
میں لفظ و معنی کے ابہام سے نکل جاؤں
سخن شناس فضا کی سماعتیں کر دے
انا کی سرکشی، بس میں مِرے نہیں آتی
مِری جبیں کے مقدر عبادتیں کر دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عظمتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر
رفعتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر
ٹھوکریں سے جس کی وا ہوئے ہیں کوہِ سیم و زر
نعمتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر
افتراقِ بیش و کم کو جس نے ختم کر دیا
وسعتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لکھ دی ہے جب خدا نے حبیب خدا کی نعت
اوقات کیا بشر کی لکھے مصطفیٰﷺ کی نعت
فکرِ رسا کی نعت، نہ ذہن، رسا کی نعت
ہے حرزِ جاں، محمد صلِ علیٰﷺ کی نعت
سوکھے شجر پہ موسمِ سر سبز آ گیا
پڑھتی رہیں ہوائیں رسولِ خداﷺ کی نعت
گھر سے نکل بھی آئیں مگر یار بھی تو ہو
جی کو لگے کہیں کوئی کردار بھی تو ہو
یہ کیا کہ برگِ زرد سا ٹوٹے بکھر گئے
آندھی چلے، ہواؤں کی یلغار بھی تو ہو
سر کو عبث ہے سنگِ تواتر کا سامنا
صحنِ مکاں میں شاخ ثمر بار بھی تو ہو