Showing posts with label محسن جلگانوی. Show all posts
Showing posts with label محسن جلگانوی. Show all posts

Tuesday, 10 February 2026

کرن کے رتھ پر سوار ہو کر

 آخری ساعت کے نام


کرن کے رتھ پر سوار ہو کر

ندی کی لہروں پہ چاند اپنی

تمام روداد لکھ چکا ہے

نئی اُڑانیں

طویل رستہ

بسیط سمتیں

Friday, 4 April 2025

الٰہی اپنے کرم سے عنایتیں کر دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


الٰہی اپنے کرم سے عنایتیں کر دے

مِرے نصیبِ سخن کی ذہانتیں کر دے

میں لفظ و معنی کے ابہام سے نکل جاؤں

سخن شناس فضا کی سماعتیں کر دے

انا کی سرکشی، بس میں مِرے نہیں آتی

مِری جبیں کے مقدر عبادتیں کر دے

Thursday, 26 September 2024

عظمتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عظمتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر

رفعتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر

ٹھوکریں سے جس کی وا ہوئے ہیں کوہِ سیم و زر

نعمتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر

افتراقِ بیش و کم کو جس نے ختم کر دیا

وسعتیں تمام ختم صرف اس کے نام پر

Wednesday, 25 September 2024

لکھ دی ہے جب خدا نے حبیب خدا کی نعت

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لکھ دی ہے جب خدا نے حبیب خدا کی نعت

اوقات کیا بشر کی لکھے مصطفیٰﷺ کی نعت

فکرِ رسا کی نعت، نہ ذہن، رسا کی نعت

ہے حرزِ جاں، محمد صلِ علیٰﷺ کی نعت

سوکھے شجر پہ موسمِ سر سبز آ گیا

پڑھتی رہیں ہوائیں رسولِ خداﷺ کی نعت

Sunday, 3 October 2021

گھر سے نکل بھی آئیں مگر یار بھی تو ہو

 گھر سے نکل بھی آئیں مگر یار بھی تو ہو

جی کو لگے کہیں کوئی کردار بھی تو ہو

یہ کیا کہ برگِ زرد سا ٹوٹے بکھر گئے

آندھی چلے، ہواؤں کی یلغار بھی تو ہو

سر کو عبث ہے سنگِ تواتر کا سامنا

صحنِ مکاں میں شاخ ثمر بار بھی تو ہو