Showing posts with label اسلم انصاری. Show all posts
Showing posts with label اسلم انصاری. Show all posts

Friday, 17 February 2023

غبار احساسِ پیش و پس کی اگر یہ باریک تہہ ہٹائیں

 غبارِ احساسِ پیش و پس کی اگر یہ باریک تہہ ہٹائیں

تو ایک پل میں نہ جانے کتنے زمانوں کے عکس تھر تھرائیں

خزاں اگر اپنا خوں نہ بخشے تو فصلِ گل کیسے سرخرو ہو

سکوت اپنا جگر نہ چیرے تو کیسے جھنکار دیں صدائیں 

بکھر چلے ہیں بکھر چکے ہیں گلِ عبارت کے برگ ریزے

کتابِ جاں کی شہادتوں کا ورق ورق لے گئیں ہوائیں

Saturday, 27 August 2022

اس جلوہ گاہ میں ہے اسی ایک کا ظہور

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام

حدیثِ نور 

اس جلوہ گاہ میں ہے اسی ایک کا ظہور

٭اللہ آسمان کا ہے اور زمیں کا نور٭

اس کی مثال کہ ہے جیسے ایک طاق

روشن ہے اس میں ایک چراغ ابد رواق

خود وہ چراغ جیسے قندیل میں نہاں

قندیل اک ستارہ موتی سا ضوفشاں

Friday, 22 April 2022

ہر شخص اس ہجوم میں تنہا دکھائی دے

 ہر شخص اس ہجوم میں تنہا دکھائی دے 

دنیا بھی اک عجیب تماشا دکھائی دے 

اک عمر قطع وادیٔ شب میں گزر گئی 

اب تو کہیں سحر کا اجالا دکھائی دے 

اے موجۂ سرابِ تمنا!! ستم نہ کر 

صحرا ہی سامنے ہے تو صحرا دکھائی دے 

Friday, 30 October 2020

کبھی ایسا تموج تم نے دیکھا ہے

 کبھی ایسا تموّج تم نے دیکھا ہے


کبھی ایسا تموج تم نے دیکھا ہے

کبھی جذبات کا ایسا تموج تم نے دیکھا ہے

کہ سینے میں بھنور پڑتے ہوں تشنہ آرزوؤں کے

مگر ان کو میان موج رستہ بھی نہ ملتا ہو

کنارے تک رسائی کا اشارہ بھی نہ ملتا ہو

Saturday, 26 September 2020

خفا نہ ہو کہ ترا حسن ہی کچھ ایسا تھا

 خفا نہ ہو کہ ترا حسن ہی کچھ ایسا تھا

میں تجھ سے پیار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

ٹھہر کے سن تو سہی غم کی ڈوبتی آواز

پلٹ کے دیکھ تو لے، منظرِ شکستِ وفا

تو خواب تھا مجھے نیند سے جگایا کیوں

تو وہم تھا تو مرے ساتھ ساتھ کیوں نہ چلا

کچھ تو غم خانۂ ہستی میں اجالا ہوتا

 کچھ تو غم خانۂ ہستی میں اجالا ہوتا

چاند چمکا ہے تو احساس بھی چمکا ہوتا

آئینہ خانۂ عالم میں کھڑا سوچتا ہوں

میں نہ ہوتا تو یہاں کون سا چہرہ ہوتا

خود بھی گم ہو گئے ہم اپنی صداؤں کی طرح

دشت فرقت میں تجھے یوں نہ پکارا ہوتا

اب اور چلنے کا اس دل میں حوصلہ ہی نہ تھا

 اب اور چلنے کا اس دل میں حوصلہ ہی نہ تھا

کہ شہرِ شب میں اجالے کا شائبہ ہی نہ تھا

میں اس گلی میں گیا لے کے زعمِ رسوائی

مگر مجھے تو وہاں کوئی جانتا ہی نہ تھا

گدازِ جاں سے لیا میں نے پھر غزل کا سراغ

کہ یہ چراغ تو جیسے کبھی بجھا ہی نہ تھا

Thursday, 24 September 2020

مجھے تو یہ بھی فریب حواس لگتا ہے

 مجھے تو یہ بھی فریبِ حواس لگتا ہے

وگرنہ کون اندھیروں میں ساتھ چلتا ہے

بکھر چکی جرسِ کاروانِ گل کی صدا

اب اس کے بعد تو واماندگی کا وقفہ ہے

جو سوچیے تو سبھی کارواں میں شامل ہیں 

جو دیکھیے تو سفر میں ہر ایک تنہا ہے

Saturday, 12 November 2016

بجھی ہے آتش رنگ بہار آہستہ آہستہ

بجھی ہے آتشِ رنگِ بہار، آہستہ آہستہ
گِرے ہیں شعلۂ گل سے شرار، آہستہ آہستہ
وہ اک قطرہ کہ برگِ دل پہ شبنم سا لرزتا تھا
ہوا ہے بحر ناپیدا کنار، آہستہ آہستہ
کبھی شورِ قیامت گوشِ انساں تک بھی پہنچے گا
کوئی سیارہ بدلے گا مدار، آہستہ آہستہ

ایک سمندر ایک کنارہ ایک ستارہ کافی ہے

ایک سمندر، ایک کنارہ، ایک ستارہ، کافی ہے
اس منظر میں اسکے علاوہ کوئ اکیلا کافی ہے
دینے والا جھولیاں بھر بھر دیتا ہے تو اسکا کرم
لینے والے کب کہتے ہیں، داتا اتنا کافی ہے
ایک غلط انداز نظر سے گلشن گلشن داغ جلیں 
شبنم شبنم رلوانے کو ایک ہی جملہ کافی ہے

اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے

اپنی صدا کی گونج ہی تجھ کو ڈرا نہ دے
اے دل! طلسمِ گنبدِ شب میں صدا نہ دے
دیوار خستگی ہوں، مجھے ہاتھ مت لگا
میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے
ہم سب اسیرِ دشتِ ہویدا ہیں دوستو
ہم میں کوئی کسی کو کسی کا پتا نہ دے

Friday, 22 January 2016

اب کیا کہیں کیا مشغلہ ہم دل زدہ لوگوں کا ہے

اب کیا کہیں کیا مشغلہ ہم دل زدہ لوگوں کا ہے
آوارگی شاموں کی ہے اور جاگنا راتوں کا ہے
دہشت سی کچھ رستوں میں ہے، کچھ شور سا پتوں کا ہے
اک سرسراتا سا وہم ۔۔۔ شام کے لمحوں کا ہے
وعدوں کی رُت رخصت ہوئی، باتوں کو چپ سی لگ گئی
ملنا تو اب خوابوں میں ہے ۔۔۔ رشتہ تو بس یادوں کا ہے

مرے عزیزو تمام دکھ ہے

مِرے عزیزو تمام دکھ ہے
مجھے محبت سے تکنے والو
مجھے عقيدت سے سننے والو
مِرے شکستہ حروف سے اپنے من کی دنيا بسانے والو
مِرے الم آفريں تکلم سے انبساطِ تمام کی لازوال شمعيں جلانے والو
بدن کو تحليل کرنے والی رياضتوں پرعبور پائے ہوئے، سکھوں کو تَجے ہوئے بے مثال لوگو
حيات کی رمزِ آخريں کو سمجھنے والو، عزيز بچو، ميں بجھ رہا ہوں

کچھ تو احوال غم دل بھی سنایا ہوتا

کچھ تو احوالِ غمِ دل بھی سنایا ہوتا
رک گیا تھا تو اسے اور بھی روکا ہوتا
شام اتری ہے سرِ عرصۂ صحرائے خیال
منظرِ دل سے کوئی چاند بھی ابھرا ہوتا
کسی پتے سے ہی ملتا کوئی عنوانِ بہار
پھول کوئی تو سرِ شاخ بھی مہکا ہوتا

شدت تلخیٔ حالات بڑھا دیتی ہے

شدتِ تلخیٔ حالات بڑھا دیتی ہے
آگہی درد کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے
کس کی آہٹ پہ فضا کان دھرے بیٹھی ہے
خامشی کس کو سرِ شام صدا دیتی ہے
نکہتِ گیسوئے دلدار کہاں بکھری ہے
پوچھتا ہوں تو ہوا خاک اڑا دیتی ہے

Thursday, 19 November 2015

لرز لرز کے دل ناتواں ٹھہر ہی نہ جائے

لرز لرز کے دلِ ناتواں ٹھہر ہی نہ جائے
فراقِ ساز، کہیں روحِ نغمہ مر ہی نہ جائے
اتار لے کسی شیشے میں ساعتِ نغمہ
صدائے قافلۂ گل کہیں بکھر ہی نہ جائے
سنا بھی دے کدی گل کو فسونِ تنہائی
رہِ خیال سے یہ کارواں گزر ہی نہ جائے

درس آداب جنوں یاد دلانے والے

درس آداب جنوں یاد دلانے والے
آ گئے پھر مِری زنجیر ہلانے والے
کس طرح کھوئے گئے عکسِ رواں کی صورت
شہرِ حیراں میں تِرا کھوج لگانے والے
خمِ محراب پہ صدیوں کی سیہ گرد بھی دیکھ
طاقِ ویراں میں لہو اپنا جلانے والے

شکستہ پا ہیں مگر پھر بھی چلتے جاتے ہیں

شکستہ پا ہیں مگر پھر بھی چلتے جاتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں، گر کر سنبھلتے جاتے ہیں
عجب نہیں کہ نظامِ جہاں بدل جائے
خیال و حرف کے رشتے بدلتے جاتے ہیں
کوئی بچا نہیں پاتا ہے اپنی ہستی کو
سبھی اسی کی تمنا میں ڈھلتے جاتے ہیں

Wednesday, 28 August 2013

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں
دور و نزدیک سے اٹھتا نہیں شورِ زنجیر
اور صحرا میں کوئی نقشِ کفِ پا بھی نہیں