غبارِ احساسِ پیش و پس کی اگر یہ باریک تہہ ہٹائیں
تو ایک پل میں نہ جانے کتنے زمانوں کے عکس تھر تھرائیں
خزاں اگر اپنا خوں نہ بخشے تو فصلِ گل کیسے سرخرو ہو
سکوت اپنا جگر نہ چیرے تو کیسے جھنکار دیں صدائیں
بکھر چلے ہیں بکھر چکے ہیں گلِ عبارت کے برگ ریزے
کتابِ جاں کی شہادتوں کا ورق ورق لے گئیں ہوائیں