دشت میں خاک اڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں
ہم قلندر جہاں جاتے ہیں دعا کرتے ہیں
یار تو یار ہیں، دشمن بھی سدا دور رہیں
عشق سے جان چھڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں
یہ سلیقہ کہ محبت نے سکھایا ہے ہمیں
زخم ہنستے ہوئے کھاتے ہیں دعا کرتے ہیں
دشت میں خاک اڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں
ہم قلندر جہاں جاتے ہیں دعا کرتے ہیں
یار تو یار ہیں، دشمن بھی سدا دور رہیں
عشق سے جان چھڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں
یہ سلیقہ کہ محبت نے سکھایا ہے ہمیں
زخم ہنستے ہوئے کھاتے ہیں دعا کرتے ہیں
مستقل ہاتھ ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
میں نئے دوست بناتے ہوئے تھک جاتا ہوں
ابر آوارہ ہوں میں کوئی سمندر تو نہیں
پیاس صحرا کی بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
مالک کون و مکاں اب تو رہائی دے دے
جسم کا بوجھ اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
مذہب عشق میں شجرہ نہیں دیکھا جاتا
ہم پرندوں میں قبیلہ نہیں دیکھا جاتا
لشکر خواب کسی طور اتر آنکھوں میں
رات بھر نیند کا رستہ نہیں دیکھا جاتا
سورما باپ نے تلوار بھی گروی رکھ دی
ہاتھ میں بچوں کے کاسہ نہیں دیکھا جاتا
تماشہ اہلِ محبت یہ چار سُو کرتے
دل و دماغ اور آنکھیں لہو لہو کرتے
وہ روشنی سے بھری جھیل کے کنارے پر
شکستہ روح، دریدہ بدن رفو کرتے
ہمارے بارے میں تفتیش کرنا چاہتے تھے
تو جان جان پرندوں سے گفتگو کرتے
ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے
زندگی جیتے ہیں کچھ لوگ خسارا کر کے
اپنے اس کام پہ وہ راتوں کو روتا ہو گا
بیچ دیتا ہے جو ذرے کو ستارہ کر کے
غم کے مارے ہوئے ہم لوگ مگر کالج میں
دل بہل جاتا ہے پریوں کا نظارہ کر کے
پرندہ قید میں کل آسمان بھُول گیا
رہا تو ہو گیا لیکن اڑان بھول گیا
مِرے شکار کو ترکش میں تیر لایا مگر
وہ میری جان کا دشمن کمان بھول گیا
اسے تو یاد ہے سارا جہان میرے سوا
میں اس یاد میں سارا جہان بھول گیا
تِرے خیال تِری آرزو سے دور رہے
نواب ہو کے بھی ہم لکھنؤ سے دور رہے
بدن کے زخم تو چارہ گروں نے سی ڈالے
مگر یہ روح کے چھالے رفُو سے دور رہے
زمیں پہ ٹپکا تو یہ انقلاب لائے گا
اسے بتا دو، وہ میرے لہو سے دور رہے
تُو نہیں ہے تو تِرے ہمنام سے رشتہ رکھا
ہم نے یوں بھی دلِ ناکام کو زندہ رکھا
وہ مِری جان کا دشمن کہ سرِ نہرِ وصال
سب کو سیراب کیا بس مجھے پیاسا رکھا
میرے مولا تِری منطق بھی عجب منطق ہے
ہونٹ پہ پیاس رکھی آنکھ میں دریا رکھا
دل محلہ غلام ہو جائے
کوئی اس کا امام ہو جائے
دفترِ عشق کاش تم آؤ
میرے جیسوں کا کام ہو جائے
یوں تو رکھا ہے پیاس کا روزہ
آ گئے ہو، تو جام ہو جائے