Showing posts with label ہاشم رضا جلالپوری. Show all posts
Showing posts with label ہاشم رضا جلالپوری. Show all posts

Wednesday, 5 April 2023

دشت میں خاک اڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں

 دشت میں خاک اڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں 

ہم قلندر جہاں جاتے ہیں دعا کرتے ہیں 

یار تو یار ہیں، دشمن بھی سدا دور رہیں 

عشق سے جان چھڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں 

یہ سلیقہ کہ محبت نے سکھایا ہے ہمیں 

زخم ہنستے ہوئے کھاتے ہیں دعا کرتے ہیں 

Sunday, 27 February 2022

مستقل ہاتھ ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

 مستقل ہاتھ ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

میں نئے دوست بناتے ہوئے تھک جاتا ہوں

ابر آوارہ ہوں میں کوئی سمندر تو نہیں

پیاس صحرا کی بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

مالک کون و مکاں اب تو رہائی دے دے

جسم کا بوجھ اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

Tuesday, 9 March 2021

مذہب عشق میں شجرہ نہیں دیکھا جاتا

 مذہب عشق میں شجرہ نہیں دیکھا جاتا

ہم پرندوں میں قبیلہ نہیں دیکھا جاتا

لشکر خواب کسی طور اتر آنکھوں میں

رات بھر نیند کا رستہ نہیں دیکھا جاتا

سورما باپ نے تلوار بھی گروی رکھ دی

ہاتھ میں بچوں کے کاسہ نہیں دیکھا جاتا

Friday, 5 March 2021

تماشہ اہل محبت یہ چار سو کرتے

 تماشہ اہلِ محبت یہ چار سُو کرتے

دل و دماغ اور آنکھیں لہو لہو کرتے

وہ روشنی سے بھری جھیل کے کنارے پر

شکستہ روح، دریدہ بدن رفو کرتے

ہمارے بارے میں تفتیش کرنا چاہتے تھے

تو جان جان پرندوں سے گفتگو کرتے

Wednesday, 24 February 2021

ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے

 ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے

زندگی جیتے ہیں کچھ لوگ خسارا کر کے

اپنے اس کام پہ وہ راتوں کو روتا ہو گا

بیچ دیتا ہے جو ذرے کو ستارہ کر کے

غم کے مارے ہوئے ہم لوگ مگر کالج میں

دل بہل جاتا ہے پریوں کا نظارہ کر کے

پرندہ قید میں کل آسمان بھول گیا

 پرندہ قید میں کل آسمان بھُول گیا

رہا تو ہو گیا لیکن اڑان بھول گیا

مِرے شکار کو ترکش میں تیر لایا مگر

وہ میری جان کا دشمن کمان بھول گیا

اسے تو یاد ہے سارا جہان میرے سوا

میں اس یاد میں سارا جہان بھول گیا

Tuesday, 23 February 2021

ترے خیال تری آرزو سے دور رہے

 تِرے خیال تِری آرزو سے دور رہے

نواب ہو کے بھی ہم لکھنؤ سے دور رہے

بدن کے زخم تو چارہ گروں نے سی ڈالے

مگر یہ روح کے چھالے رفُو سے دور رہے

زمیں پہ ٹپکا تو یہ انقلاب لائے گا

اسے بتا دو، وہ میرے لہو سے دور رہے

Monday, 22 February 2021

تو نہیں ہے تو ترے ہم نام سے رشتہ رکھا

 تُو نہیں ہے تو تِرے ہمنام سے رشتہ رکھا

ہم نے یوں بھی دلِ ناکام کو زندہ رکھا

وہ مِری جان کا دشمن کہ سرِ نہرِ وصال

سب کو سیراب کیا بس مجھے پیاسا رکھا

میرے مولا تِری منطق بھی عجب منطق ہے

ہونٹ پہ پیاس رکھی آنکھ میں دریا رکھا

Tuesday, 19 January 2021

دل محلہ غلام ہو جائے

 دل محلہ غلام ہو جائے

کوئی اس کا امام ہو جائے

دفترِ عشق کاش تم آؤ

میرے جیسوں کا کام ہو جائے

یوں تو رکھا ہے پیاس کا روزہ

آ گئے ہو، تو جام ہو جائے