Showing posts with label سید نصیر شاہ. Show all posts
Showing posts with label سید نصیر شاہ. Show all posts

Saturday, 19 August 2023

ساری عمر کی ہمدم ہے شاداب رتوں کی یاد

 ساری عمر کی ہمدم ہے شاداب رُتوں کی یاد

برسوں کے بے رحم سفر میں کچھ لمحوں کی یاد

کیسا زادِ راہ مسافر لے کے گیا ہے ساتھ

اک کھڑکی سے جھانکنے والی دو آنکھوں کی یاد

جیون کی اندھیر مسافت میں دَم ساز رفیق

ان ہونٹوں سے صادر ہوتی کچھ کرنوں کی یاد

Saturday, 12 August 2023

جیب و گریباں سی لینے میں دیوانہ مصروف ہوا

 جیب و گریباں سی لینے میں دیوانہ مصروف ہوا

ان کی گلی میں آنا جانا مدت سے موقوف ہوا

ہاتھ کٹے تھے، ہونٹ سلے تھے سوچ بھی اب پتھرائی ہے

پہلے بدن مفلوج ہوا تھا، ذہن بھی اب ماؤف ہوا

کومل کرنیں پیتے رہنا کونپل کی معراج ہوئی

رنگوں کا طوفان تھا کیسے غُنچوں میں ملفوف ہوا

Saturday, 5 August 2023

آؤ میرے شہر کے لوگو اپنی اپنی بات کریں

 آؤ میرے شہر کے لوگو! اپنی اپنی بات کریں

پیت کی مات کے قصے چھیڑیں پاگل دل کی بات کریں

کالی رات کا جزو بنے تو کتنے جیون بیت گئے

صبحوں کے سندیسے لائیں بھولی بسری بات کریں

دیکھو پھولِ سماعت کوئی لفظوں سے مجروح نہ ہو

دھرتی کے دکھ گھول کے پی لیں، کوئی پیاری بات کریں

Monday, 3 July 2023

جو بھی تخت پہ آ کر بیٹھا اس کو یزدان مان لیا

 جو بھی تخت پہ آ کر بیٹھا اس کو یزدان مان لیا

آپ بہت ہی دیدہ ور تھے، موسم کو پہچان لیا

جب بھی تھکن نے کاٹ کے پھینکا دشت گزیدہ قدموں کو

جلتی ریت پہ کھال بچھائی، دھوپ کا خیمہ تان لیا

اپنی انا کا باغی دریا، وصل سے کیا سرشار ہوا

اس کا نشاں بھی ہاتھ نہ آیا سارا سمندر چھان لیا

Thursday, 27 April 2023

اب بند ہو گیا ہے تجسس کا باب بھی

 اب بند ہو گیا ہے تجسس کا باب بھی

کتنا ہے لاجواب مِرا انتخاب بھی

صحرا نشانِ پا کے تحیر میں گم ہوا

کچے گھڑے میں ڈوب گیا ہے چناب بھی

کوئی گنہ بھی کر نہیں پائے بااہتمام

ان حسرتوں کا دینا پڑے گا حساب بھی

Tuesday, 25 April 2023

ہم اندھیروں میں اجالوں کے سفیروں کی طرح

 ہم اندھیروں میں اجالوں کے سفیروں کی طرح

کچھ حوالوں کی طرح چند نظیروں کی طرح

وہ جو ڈوبے تھے مِرے سوچ سمندر میں کہیں

اب ابھر آئے ہیں بے چاپ جزیروں کی طرح

بندگی میں بھی ہیں اندازِ خدائی موجود

زندگی کون کرے ہم سے فقیروں کی طرح

Saturday, 25 February 2023

مجھ کو یاد ہے میں نے جب دسویں کا داخلہ بھیجا تھا

مجھ کو یاد ہے میں نے جب دسویں کا داخلہ بھیجا تھا

میری ماں نے فیس کی خاطر اپنا جھُومر بیچا تھا

میں اور دولت خان کا بیٹا ایک کلاس میں پڑھتے تھے

ایک ہی بینچ تھا لیکن مجھ کو دور دکھائی دیتا تھا

اپنے ٹیچر ایک پرانی سائیکل لے کر پھرتے تھے

لیکن ڈی سی صاحب کا لڑکا لمبی کار میں آتا تھا

Tuesday, 14 February 2023

اپنے باقی ماندہ پتھر میری قبر پہ دھرنے آئے

اپنے باقی ماندہ پتھر میری قبر پہ دھرنے آئے

زیست پہ احساں کرنے والے موت پہ احساں کرنے آئے

کیسی حکمت کیسی دانش بے مقصد تخلیق ہوئی

اس دنیا میں آنے والے آئے کیوں بس مرنے آئے

سارے رنگ دھنک کے آ کر تیری آنکھ میں ڈوب گئے

شوخ تخیل، کومل عنواں میرے پاس نکھرنے آئے

Sunday, 6 November 2022

دور کہیں اک تارہ ٹوٹا یاد کے دشت میں آگ لگی ہے

دور کہیں اک تارہ ٹوٹا، یاد کے دشت میں آگ لگی ہے

راکھ کے ڈھیر میں آسودہ تھی، جو چنگاری چونک اٹھی ہے

چاند سسک کر سوچ رہا تھا کیا انجام دِیے کا ہو گا

رات کی کشتی دھڑکن دھڑکن ہچکی لے کر ڈوب گئی ہے

پھول خزاں کی وحشت خیزی سہتے سہتے خاک ہوئے

اک کاٹنے پہ پاگل تتلی بیٹھی جھولا جھول رہی ہے

Sunday, 23 May 2021

حسب فرمان امیر قافلہ چلتے رہے

حسبِ فرمانِ امیر قافلہ چلتے رہے

پابجولاں دیدہ و لب دوختہ چلتے رہے

آپ کیا ہم خود بھی سن پائے نہ دل کی دھڑکنیں

اپنے سینے پر قدم رکھ کر سدا چلتے رہے

شہر کی لمبی سڑک پر پھینک کے اپنے قلم

احتجاجاً شہر کے دانش سرا چلتے رہے