ساری عمر کی ہمدم ہے شاداب رُتوں کی یاد
برسوں کے بے رحم سفر میں کچھ لمحوں کی یاد
کیسا زادِ راہ مسافر لے کے گیا ہے ساتھ
اک کھڑکی سے جھانکنے والی دو آنکھوں کی یاد
جیون کی اندھیر مسافت میں دَم ساز رفیق
ان ہونٹوں سے صادر ہوتی کچھ کرنوں کی یاد
ساری عمر کی ہمدم ہے شاداب رُتوں کی یاد
برسوں کے بے رحم سفر میں کچھ لمحوں کی یاد
کیسا زادِ راہ مسافر لے کے گیا ہے ساتھ
اک کھڑکی سے جھانکنے والی دو آنکھوں کی یاد
جیون کی اندھیر مسافت میں دَم ساز رفیق
ان ہونٹوں سے صادر ہوتی کچھ کرنوں کی یاد
جیب و گریباں سی لینے میں دیوانہ مصروف ہوا
ان کی گلی میں آنا جانا مدت سے موقوف ہوا
ہاتھ کٹے تھے، ہونٹ سلے تھے سوچ بھی اب پتھرائی ہے
پہلے بدن مفلوج ہوا تھا، ذہن بھی اب ماؤف ہوا
کومل کرنیں پیتے رہنا کونپل کی معراج ہوئی
رنگوں کا طوفان تھا کیسے غُنچوں میں ملفوف ہوا
آؤ میرے شہر کے لوگو! اپنی اپنی بات کریں
پیت کی مات کے قصے چھیڑیں پاگل دل کی بات کریں
کالی رات کا جزو بنے تو کتنے جیون بیت گئے
صبحوں کے سندیسے لائیں بھولی بسری بات کریں
دیکھو پھولِ سماعت کوئی لفظوں سے مجروح نہ ہو
دھرتی کے دکھ گھول کے پی لیں، کوئی پیاری بات کریں
جو بھی تخت پہ آ کر بیٹھا اس کو یزدان مان لیا
آپ بہت ہی دیدہ ور تھے، موسم کو پہچان لیا
جب بھی تھکن نے کاٹ کے پھینکا دشت گزیدہ قدموں کو
جلتی ریت پہ کھال بچھائی، دھوپ کا خیمہ تان لیا
اپنی انا کا باغی دریا، وصل سے کیا سرشار ہوا
اس کا نشاں بھی ہاتھ نہ آیا سارا سمندر چھان لیا
اب بند ہو گیا ہے تجسس کا باب بھی
کتنا ہے لاجواب مِرا انتخاب بھی
صحرا نشانِ پا کے تحیر میں گم ہوا
کچے گھڑے میں ڈوب گیا ہے چناب بھی
کوئی گنہ بھی کر نہیں پائے بااہتمام
ان حسرتوں کا دینا پڑے گا حساب بھی
ہم اندھیروں میں اجالوں کے سفیروں کی طرح
کچھ حوالوں کی طرح چند نظیروں کی طرح
وہ جو ڈوبے تھے مِرے سوچ سمندر میں کہیں
اب ابھر آئے ہیں بے چاپ جزیروں کی طرح
بندگی میں بھی ہیں اندازِ خدائی موجود
زندگی کون کرے ہم سے فقیروں کی طرح
مجھ کو یاد ہے میں نے جب دسویں کا داخلہ بھیجا تھا
میری ماں نے فیس کی خاطر اپنا جھُومر بیچا تھا
میں اور دولت خان کا بیٹا ایک کلاس میں پڑھتے تھے
ایک ہی بینچ تھا لیکن مجھ کو دور دکھائی دیتا تھا
اپنے ٹیچر ایک پرانی سائیکل لے کر پھرتے تھے
لیکن ڈی سی صاحب کا لڑکا لمبی کار میں آتا تھا
اپنے باقی ماندہ پتھر میری قبر پہ دھرنے آئے
زیست پہ احساں کرنے والے موت پہ احساں کرنے آئے
کیسی حکمت کیسی دانش بے مقصد تخلیق ہوئی
اس دنیا میں آنے والے آئے کیوں بس مرنے آئے
سارے رنگ دھنک کے آ کر تیری آنکھ میں ڈوب گئے
شوخ تخیل، کومل عنواں میرے پاس نکھرنے آئے
دور کہیں اک تارہ ٹوٹا، یاد کے دشت میں آگ لگی ہے
راکھ کے ڈھیر میں آسودہ تھی، جو چنگاری چونک اٹھی ہے
چاند سسک کر سوچ رہا تھا کیا انجام دِیے کا ہو گا
رات کی کشتی دھڑکن دھڑکن ہچکی لے کر ڈوب گئی ہے
پھول خزاں کی وحشت خیزی سہتے سہتے خاک ہوئے
اک کاٹنے پہ پاگل تتلی بیٹھی جھولا جھول رہی ہے
حسبِ فرمانِ امیر قافلہ چلتے رہے
پابجولاں دیدہ و لب دوختہ چلتے رہے
آپ کیا ہم خود بھی سن پائے نہ دل کی دھڑکنیں
اپنے سینے پر قدم رکھ کر سدا چلتے رہے
شہر کی لمبی سڑک پر پھینک کے اپنے قلم
احتجاجاً شہر کے دانش سرا چلتے رہے