Tuesday, 14 July 2026

ہر اک موسم یہاں پر ہے تمہاری یاد کا موسم

 ہر اک موسم یہاں پر ہے تمہاری یاد کا موسم

کبھی بدلا نہیں  ہے اس دل ناشاد کا موسم

یہ سناٹوں کے سوداگر کہاں برداشت کرتے ہیں

کہ ہو گونگوں کی بستی میں لبِ آزاد کا موسم

مِری دھرتی کی زرخیزی میں ظلم و جور پھلتے ہیں

ہمیشہ بے ثمر ٹھہرا ہے یاں فریاد کا موسم

لہو سے سینچ کر گلشن، وہ جس کی آرزو کی تھی

کہاں کھویا گیا ہے وہ گُل و شمشاد کا موسم

گُلِ سر سبدِ ہستی جب وہاں رونق فزا ہوں گے

یقیناً کھل اُٹھا ہو گا عدم آباد کا موسم


اسلم شاہد

No comments:

Post a Comment