ہر اک موسم یہاں پر ہے تمہاری یاد کا موسم
کبھی بدلا نہیں ہے اس دل ناشاد کا موسم
یہ سناٹوں کے سوداگر کہاں برداشت کرتے ہیں
کہ ہو گونگوں کی بستی میں لبِ آزاد کا موسم
مِری دھرتی کی زرخیزی میں ظلم و جور پھلتے ہیں
ہمیشہ بے ثمر ٹھہرا ہے یاں فریاد کا موسم
لہو سے سینچ کر گلشن، وہ جس کی آرزو کی تھی
کہاں کھویا گیا ہے وہ گُل و شمشاد کا موسم
گُلِ سر سبدِ ہستی جب وہاں رونق فزا ہوں گے
یقیناً کھل اُٹھا ہو گا عدم آباد کا موسم
اسلم شاہد
No comments:
Post a Comment