میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں
کتنا یاد آتے ہو بارشوں کے موسم میں
کس کی کاغذی کشتی جھیل میں ڈبوتے ہو
اب کیسے ستاتے ہو بارشوں کے موسم میں
عقل کے پُجاری تو اِک ہوا سے ڈرتے ہیں
تم دِیے جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں
آگ سا بدن لے کر گھر سے جب نکلتے ہو
بِجلیاں گِراتے ہو بارشوں کے موسم میں
یار! تم بھی کیسے ہو، اتنے کچے رنگوں سے
بام و در سجاتے ہو بارشوں کے موسم میں
ہم سے روز کہتے ہو؛ کوئی بھی نہیں میرا
کس سے مِلنے جاتے ہو بارشوں کے موسم میں
بُوند بُوند پانی میں پھر جلا لیا خُود کو
کیوں فریب کھاتے ہو بارشوں کے موسم میں
اظہر کمال
No comments:
Post a Comment