Friday, 10 July 2026

میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

 میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

کتنا یاد آتے ہو بارشوں کے موسم میں

کس کی کاغذی کشتی جھیل میں ڈبوتے ہو

اب کیسے ستاتے ہو بارشوں کے موسم میں

عقل کے پُجاری تو اِک ہوا سے ڈرتے ہیں

تم دِیے جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

آگ سا بدن لے کر گھر سے جب نکلتے ہو

بِجلیاں گِراتے ہو بارشوں کے موسم میں

یار! تم بھی کیسے ہو، اتنے کچے رنگوں سے

بام و در سجاتے ہو بارشوں کے موسم میں

ہم سے روز کہتے ہو؛ کوئی بھی نہیں میرا

کس سے مِلنے جاتے ہو بارشوں کے موسم میں

بُوند بُوند پانی میں پھر جلا لیا خُود کو

کیوں فریب کھاتے ہو بارشوں کے موسم میں


اظہر کمال

No comments:

Post a Comment