صدی میں جھُوٹ کی میں جی رہا ہوں
مُسلسل زہر سچ کا پی رہا ہوں
گواہی ظُلم کے حق میں نہ جائے
لبوں کو اپنے پھر میں سی رہا ہوں
کبھی دیوانے تیرے جو رہے ہیں
شریک ان کا کبھی میں بھی رہا ہوں
رہے ہیں ہمنوا ظالم کے لاکھوں
میں ہر مظلوم کا ساتھی رہا ہوں
شکستہ حال ہوں، لیکن اے دنیا
میں تیرا اک حسیں ماضی رہا ہوں
آغاز بلڈانوی
ڈاکٹر گنیش گائیکواڑ
No comments:
Post a Comment