Showing posts with label مصعب شاہین. Show all posts
Showing posts with label مصعب شاہین. Show all posts

Sunday, 14 January 2024

کشادہ ذہن میں آتی ہے رفعت عثمان

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کشادہ ذہن میں آتی ہے رفعتِ عثمانؓ

عظیم دل میں سماتی ہے عظمتِ عثمانؓ

حسینیؑ کون ہے اور کون ہے سبائی یہاں

نسب سبھی کے بتاتی ہے نسبتِ عثمانؓ

عراق ان کا، فلسطین ان کا، شام ان کا

کہاں کہاں نظر آتی ہے سطوتِ عثمانؓ

Monday, 8 January 2024

محمد کے ساتھی پہ قربان جاؤں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


محمدﷺ کے ساتھی پہ قربان جاؤں

میں تیمی قریشی پہ قربان جاؤں 

حسب اور نسب جس نے بے عیب پایا 

وہ جس نے محمدﷺ پہ سب کچھ لُٹایا

وہ جو زخم کھا کر سدا مُسکرایا

میں ایسے صحابی پہ قربان جاؤں

Monday, 1 January 2024

یزداں کا خاص فضل ہے میلان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یزداں کا خاص فضل ہے میلانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"

احساس، لفظ، لہجہ و گُفتار عنبریں

کیونکر نہ ہوں گے دل جو گُلستانِ نعت ہے

انؐ کی ثناء کے نور سے روشن مِرا سخن

الحمد، بزمِ فکر، قلمدانِ نعت ہے

Sunday, 24 December 2023

میں عم زاد نبی شیر خدا کا مرثیہ لکھوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں عم زادِ نبیؐ، شیرِ خدا کا مرثیہ لکھوں

اگر رونے سے فرصت ہو تو یہ سوچوں کہ کیا لکھوں

علیؑ، وہ بُو تُرابؑ و حیدرِؑ کرار کی باتیں

ابوالحسنینؑ، دامادِ نبیﷺ، سردار کی باتیں

وہی جس کو ملی دنیا میں جنت کی بشارت بھی

نبیؐ کی جانشینی یعنی پھر چوتھی خلافت بھی

Friday, 22 December 2023

آمد مصطفیٰ مرحبا مرحبا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آمدِ مصطفیٰﷺ، مرحبا مرحبا

آ گیا لب پہ خود سے ہی صلے علیٰ

انؐ کے جلوے سے ہے ماند یہ ماہتاب

اور منہ کو چُھپاتا ہے اب آفتاب

بس کہ جاری ہے صلے علیٰ کی ہی جاپ

بالیقیں دُھل رہے ہیں مِرے سارے پاپ

Tuesday, 19 December 2023

حضور کاش میں ہوتا اسی زمانے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حضورﷺ کاش میں ہوتا اسی زمانے میں

اور ایک روز مِری چِڑیا مر گئی ہوتی

حضورﷺ! اور میں روتا تو آپؐ آ جاتے 

زمیں پہ بیٹھ کے پھر مجھ سے تعزیت کرتے

حضورﷺ کاش میں ہوتا وہ ننھا بچہ جسے 

حضورﷺ آپؐ کے گھر داخلے پہ روک نہ تھا

Sunday, 12 December 2021

میں جو خاموش رہوں سوز دروں چیختا ہے

میں جو خاموش رہوں، سوزِ درُوں چیختا ہے

پھر بھی خاموش رہوں، اور فزُوں چیختا ہے

وہ بھی کیا وقت تھا جب میرا جنُوں چیختا تھا

کیا زبوں حالی ہے، اب مجھ پہ زبُوں چیختا ہے

مجھ پہ جادُو ہے کسی شوخ نِگہ والے کا

ہر طرف آج یہی، رنگِ فسُوں چیختا ہے