عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کشادہ ذہن میں آتی ہے رفعتِ عثمانؓ
عظیم دل میں سماتی ہے عظمتِ عثمانؓ
حسینیؑ کون ہے اور کون ہے سبائی یہاں
نسب سبھی کے بتاتی ہے نسبتِ عثمانؓ
عراق ان کا، فلسطین ان کا، شام ان کا
کہاں کہاں نظر آتی ہے سطوتِ عثمانؓ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کشادہ ذہن میں آتی ہے رفعتِ عثمانؓ
عظیم دل میں سماتی ہے عظمتِ عثمانؓ
حسینیؑ کون ہے اور کون ہے سبائی یہاں
نسب سبھی کے بتاتی ہے نسبتِ عثمانؓ
عراق ان کا، فلسطین ان کا، شام ان کا
کہاں کہاں نظر آتی ہے سطوتِ عثمانؓ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ کے ساتھی پہ قربان جاؤں
میں تیمی قریشی پہ قربان جاؤں
حسب اور نسب جس نے بے عیب پایا
وہ جس نے محمدﷺ پہ سب کچھ لُٹایا
وہ جو زخم کھا کر سدا مُسکرایا
میں ایسے صحابی پہ قربان جاؤں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یزداں کا خاص فضل ہے میلانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
احساس، لفظ، لہجہ و گُفتار عنبریں
کیونکر نہ ہوں گے دل جو گُلستانِ نعت ہے
انؐ کی ثناء کے نور سے روشن مِرا سخن
الحمد، بزمِ فکر، قلمدانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں عم زادِ نبیؐ، شیرِ خدا کا مرثیہ لکھوں
اگر رونے سے فرصت ہو تو یہ سوچوں کہ کیا لکھوں
علیؑ، وہ بُو تُرابؑ و حیدرِؑ کرار کی باتیں
ابوالحسنینؑ، دامادِ نبیﷺ، سردار کی باتیں
وہی جس کو ملی دنیا میں جنت کی بشارت بھی
نبیؐ کی جانشینی یعنی پھر چوتھی خلافت بھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آمدِ مصطفیٰﷺ، مرحبا مرحبا
آ گیا لب پہ خود سے ہی صلے علیٰ
انؐ کے جلوے سے ہے ماند یہ ماہتاب
اور منہ کو چُھپاتا ہے اب آفتاب
بس کہ جاری ہے صلے علیٰ کی ہی جاپ
بالیقیں دُھل رہے ہیں مِرے سارے پاپ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حضورﷺ کاش میں ہوتا اسی زمانے میں
اور ایک روز مِری چِڑیا مر گئی ہوتی
حضورﷺ! اور میں روتا تو آپؐ آ جاتے
زمیں پہ بیٹھ کے پھر مجھ سے تعزیت کرتے
حضورﷺ کاش میں ہوتا وہ ننھا بچہ جسے
حضورﷺ آپؐ کے گھر داخلے پہ روک نہ تھا
میں جو خاموش رہوں، سوزِ درُوں چیختا ہے
پھر بھی خاموش رہوں، اور فزُوں چیختا ہے
وہ بھی کیا وقت تھا جب میرا جنُوں چیختا تھا
کیا زبوں حالی ہے، اب مجھ پہ زبُوں چیختا ہے
مجھ پہ جادُو ہے کسی شوخ نِگہ والے کا
ہر طرف آج یہی، رنگِ فسُوں چیختا ہے