Showing posts with label الوینہ چیمہ. Show all posts
Showing posts with label الوینہ چیمہ. Show all posts

Sunday, 22 October 2023

لکھ دے پہلا نصاب پانی میں

 لکھ دے پہلا نصاب پانی میں

اک مکمل کتاب پانی میں

زندگی لازمی ہے پانی میں

رنج، راحت، عذاب پانی میں

اتنی وحشت سوار ہے سر پہ

دِکھ رہا ہے سراب پانی میں

Friday, 18 December 2020

جئے تھے یاد میں جن کی دیے جلاتے ہوئے

 جئے تھے یاد میں جن کی دیے جلاتے ہوئے

گزر گئے وہ نظر سے نظر بچاتے ہوئے

بغور دیکھ رہی تھی میں اپنے ہاتھوں کو

الجھ گیا مری زلفوں سے جب وہ جاتے ہوئے

وہ لفظ اب بھی مری زندگی کا حاصل ہیں

کہے تھے اس نے جو کانوں میں گنگناتے ہوئے

Tuesday, 15 December 2020

لڑو تو آنکھ لڑانے کی ضرورت کیا ہے

 لڑو تو آنکھ لڑانے کی ضرورت کیا ہے

برف میں دل کو جلانے کی ضرورت کیا ہے 

مجھے تو خواب بھی آتے ہیں اپنے بچوں کے

تو اور خواب سہانے کی ضرورت کیا ہے

ہمیں تو روز ہی اک روگ لگ رہا ہے نیا

کسی بھی روگ  پرانے کی ضرورت کیا ہے

Monday, 14 December 2020

کبھی دیکھو مری روتی ہوئی آنکھیں

 کبھی دیکھو مری روتی ہوئی آنکھیں

تری یادوں میں ہی رہتی ہوئی آنکھيں

کریں تیرا ہی ہر پل تذکرہ مجھ سے

کبھی جاگی کبھی سوتی ہوئی آنکھيں

کسی صحرا کی حالت پر کریں ماتم

سمندر کی طرح بہتی ہوئی آنکھیں

کہیں تو مجھ میں میری بے دلی رکی ہوئی ہے

 پسِ نظم


کہیں تو مجھ میں میری بے دلی رکی ہوئی ہے

تمہارے بعد تمہاری کمی رکی ہوئی ہے

تمہیں خبر نہ ہوئی یار تیرے جاتے ہی

میرا سکون میری ہر خوشی رکی ہوئی ہے


مجھے تو وقت کے صدموں نے مار ڈالا ہے

عجیب موڑ پہ صدموں نے مار ڈالا ہے

Sunday, 13 December 2020

وہ جو تجھ سے جدا ہے الوینہ

وہ جو تجھ سے جدا ہے الوینہ

تیری اپنی خطا ہے الوینہ

شہر میں اک تِرے سوا اب تو

ہر کوئی بے گُنہ ہے الوینہ

لوگ سن کر بھی ان سنی کر دیں

مفلسوں کی صدا ہے الوینہ