لکھ دے پہلا نصاب پانی میں
اک مکمل کتاب پانی میں
زندگی لازمی ہے پانی میں
رنج، راحت، عذاب پانی میں
اتنی وحشت سوار ہے سر پہ
دِکھ رہا ہے سراب پانی میں
لکھ دے پہلا نصاب پانی میں
اک مکمل کتاب پانی میں
زندگی لازمی ہے پانی میں
رنج، راحت، عذاب پانی میں
اتنی وحشت سوار ہے سر پہ
دِکھ رہا ہے سراب پانی میں
جئے تھے یاد میں جن کی دیے جلاتے ہوئے
گزر گئے وہ نظر سے نظر بچاتے ہوئے
بغور دیکھ رہی تھی میں اپنے ہاتھوں کو
الجھ گیا مری زلفوں سے جب وہ جاتے ہوئے
وہ لفظ اب بھی مری زندگی کا حاصل ہیں
کہے تھے اس نے جو کانوں میں گنگناتے ہوئے
لڑو تو آنکھ لڑانے کی ضرورت کیا ہے
برف میں دل کو جلانے کی ضرورت کیا ہے
مجھے تو خواب بھی آتے ہیں اپنے بچوں کے
تو اور خواب سہانے کی ضرورت کیا ہے
ہمیں تو روز ہی اک روگ لگ رہا ہے نیا
کسی بھی روگ پرانے کی ضرورت کیا ہے
کبھی دیکھو مری روتی ہوئی آنکھیں
تری یادوں میں ہی رہتی ہوئی آنکھيں
کریں تیرا ہی ہر پل تذکرہ مجھ سے
کبھی جاگی کبھی سوتی ہوئی آنکھيں
کسی صحرا کی حالت پر کریں ماتم
سمندر کی طرح بہتی ہوئی آنکھیں
پسِ نظم
کہیں تو مجھ میں میری بے دلی رکی ہوئی ہے
تمہارے بعد تمہاری کمی رکی ہوئی ہے
تمہیں خبر نہ ہوئی یار تیرے جاتے ہی
میرا سکون میری ہر خوشی رکی ہوئی ہے
مجھے تو وقت کے صدموں نے مار ڈالا ہے
عجیب موڑ پہ صدموں نے مار ڈالا ہے
وہ جو تجھ سے جدا ہے الوینہ
تیری اپنی خطا ہے الوینہ
شہر میں اک تِرے سوا اب تو
ہر کوئی بے گُنہ ہے الوینہ
لوگ سن کر بھی ان سنی کر دیں
مفلسوں کی صدا ہے الوینہ