Monday, 14 December 2020

کہیں تو مجھ میں میری بے دلی رکی ہوئی ہے

 پسِ نظم


کہیں تو مجھ میں میری بے دلی رکی ہوئی ہے

تمہارے بعد تمہاری کمی رکی ہوئی ہے

تمہیں خبر نہ ہوئی یار تیرے جاتے ہی

میرا سکون میری ہر خوشی رکی ہوئی ہے


مجھے تو وقت کے صدموں نے مار ڈالا ہے

عجیب موڑ پہ صدموں نے مار ڈالا ہے

تیری قسم مجھے قسموں نے مار ڈالا ہے

تمہارے بعد تو سورج بھی شدید غصے میں سرخ لگتا ہے

تمہارے بعد میری نیند بھی رکی ہوئی ہے


وہ آرزو جسے الفت کی آرزو بولو

کہا تم نے کبھی اپنی آرزو بولو

چلو سنو کہ جو خواہش ہے میرے سینے میں

وہ میری جان فقط آپ کی رکی ہوئی ہے


ہماری بات میں الوینہ اب وہ زور نہیں

سخن پہ داد نہیں محفلوں میں شور نہیں

چرایا دل ہے فقط دل کی قسم چور نہیں

کوئی تو بات پسِ نظم تھی رکی ہوئی ہے

تمہارے بعد تو سب بزم ہی رکی ہوئی ہے


الوینہ چیمہ

No comments:

Post a Comment