سبب کچھ بیخودی کا آج ہو سب پر عیاں اپنا
سُنایا ہے محبت نے ہمیں دردِ نہاں اپنا
عبث ہیں سرحدوں کے تخت کے تاجوں کے یہ جھگڑے
زمیں اپنی نہیں ہے، نا رہا یہ آسماں اپنا
مکدّر ہے فضا تیرے جہاں کی محترم انساں
بسایا ہے کتابوں میں حسیں دلکش جہاں اپنا
پشیماں ہو ہی جائیں گے علامت کی زباں والے
رُلائے گا کسی دن جب انہیں رنگ بیاں اپنا
کہ تقسیم ازل پر ہم تو شاکر ہیں یہاں صغریٰ
خدایا! رحمتیں تیری گُناہ بے اماں اپنا
ڈاکٹر صغریٰ عالم
No comments:
Post a Comment