میری جاں تجھ کو کیا مُشکل پڑی ہے
مجھے تیری ادا مشکل پڑی ہے
بِنا تیرے یہاں پہ جی رہا ہوں
زمانے کی ہوا مشکل پڑی ہے
رہو اس دل کے ہی نزدیک اب تم
اسے تیرے بِنا مشکل پڑی ہے
میری جاں تجھ کو کیا مُشکل پڑی ہے
مجھے تیری ادا مشکل پڑی ہے
بِنا تیرے یہاں پہ جی رہا ہوں
زمانے کی ہوا مشکل پڑی ہے
رہو اس دل کے ہی نزدیک اب تم
اسے تیرے بِنا مشکل پڑی ہے
زخم جب میں نے تیری چاہت میں کھائے تھے بہت
معجزہ ایسا ہوا، میں بن گیا شاعر شمیم
اس نے یہ کہہ کر بڑھایا عشق میں میرا مقام
عاشقی میں تُو ہی اول تو ہی ہے آخر شمیم
میرا مذہب ہے محبت بانٹ لینا کُو بہ کُو
اس لیے کہتے ہیں مجھ کو لوگ اب کافر شمیم
ہجر کا صدمہ بھی المناک ہے
اس لیے یہ آنکھ بھی نمناک ہے
جس سے آنسو ظلم پہ آتے نہیں
آنکھ ایسی دوستو! ناپاک ہے
وار آنکھوں کا خطا ہوتا نہیں
اس قدر موذی ہے خطرناک ہے
خدا کا شکر ہے اب ابتداء بہار کی ہے
کہ رب کے سامنے یہ التجا بہار کی ہے
میں سن رہا ہوں سدا دل کی دھڑکیں اپنی
ہمارے دل میں حسیں یہ دعا بہار کی ہے
تجھےمیں ڈھونڈ رہا ہوں ابھی بہاروں میں
چلے بھی آؤ تم اب یہ صدا بہار کی ہے