Showing posts with label ناصر شمیم. Show all posts
Showing posts with label ناصر شمیم. Show all posts

Wednesday, 21 June 2023

میری جاں تجھ کو کیا مشکل پڑی ہے

 میری جاں تجھ کو کیا مُشکل پڑی ہے

مجھے تیری ادا مشکل پڑی ہے

بِنا تیرے یہاں پہ جی رہا ہوں

زمانے کی ہوا مشکل پڑی ہے

رہو اس دل کے ہی نزدیک اب تم

اسے تیرے بِنا مشکل پڑی ہے

Tuesday, 20 June 2023

زخم جب میں نے تیری چاہت میں کھائے تھے بہت

 زخم جب میں نے تیری چاہت میں کھائے تھے بہت

معجزہ ایسا ہوا، میں بن گیا شاعر شمیم

اس نے یہ کہہ کر بڑھایا عشق میں میرا مقام

عاشقی میں تُو ہی اول تو ہی ہے آخر شمیم

میرا مذہب ہے محبت بانٹ لینا کُو بہ کُو

اس لیے کہتے ہیں مجھ کو لوگ اب کافر شمیم

Tuesday, 13 June 2023

ہجر کا صدمہ بھی المناک ہے

 ہجر کا صدمہ بھی المناک ہے

اس لیے یہ آنکھ بھی نمناک ہے

جس سے آنسو ظلم پہ آتے نہیں

آنکھ ایسی دوستو! ناپاک ہے

وار آنکھوں کا خطا ہوتا نہیں

اس قدر موذی ہے خطرناک ہے

Sunday, 11 June 2023

خدا کا شکر ہے اب ابتدا بہار کی ہے

 خدا کا شکر ہے اب ابتداء بہار کی ہے

کہ رب کے سامنے یہ التجا بہار کی ہے

میں سن رہا ہوں سدا دل کی دھڑکیں اپنی

ہمارے دل میں حسیں یہ دعا بہار کی ہے

تجھےمیں ڈھونڈ رہا ہوں ابھی بہاروں میں

چلے بھی آؤ تم اب یہ صدا بہار کی ہے