Showing posts with label علیم اللہ صفی. Show all posts
Showing posts with label علیم اللہ صفی. Show all posts

Wednesday, 22 April 2026

ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے

 ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے

اے جانِ جہاں اب نہ چھپا خود کو تو ہم سے

اک چشم ِ کرم ہم پہ بھی اے خسروِ خوباں

زندہ ہے دل و روح تیرے حسن کے دم سے

تم چھوڑ گئے راہ میں اس آبلہ پا کو

روتا ہے لپٹ کر وہ تیرے نقشِ قدم سے

Tuesday, 21 April 2026

محو جمال یار کو فرصت بندگی نہیں

 محوِ جمالِ یار کو فُرصتِ بندگی نہیں 

اُس کے حُضور بندگی کُفر ہے بندگی نہیں 

عشق کی رسم و راہ کا اس کو شعور ہی نہیں 

کُفر کی بارگاہ میں جس کی جبیں جُھکی نہیں 

وہ بھی میرے فراق میں میری طرح ہے مضطرب

بچھڑے زمانہ ہو گیا، درد میں کچھ کمی نہیں 

Monday, 20 April 2026

تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے

 تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے

تیرے اس کرم کا بدلہ میری بندگی نہیں ہے

جو نہ جاں پہ کھیل جائے وہ نہ اس طرف کو آئے

کہ دیارِ عاشقی میں رہِ واپسی نہیں ہے

تیرے حسن کی پرستش میرا مشربِ طریقت

یہ ہے دینِ پاک بازاں کوئی کافری نہیں ہے

Sunday, 19 April 2026

ملا ہے کفر عشق اس کی عطا سے

 مِلا ہے کفرِ عشق اُس کی عطا سے

نوازا اس نے ہر غم کی دوا سے

نہیں کچھ دُور جاں سے کُوئے جاناں

فنا ہو جا کبھی پہلے فنا سے

میری دیوانگی پہ ہو نہ حیراں

بہت مِلتی ہے وہ صورت خُدا سے