ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے
اے جانِ جہاں اب نہ چھپا خود کو تو ہم سے
اک چشم ِ کرم ہم پہ بھی اے خسروِ خوباں
زندہ ہے دل و روح تیرے حسن کے دم سے
تم چھوڑ گئے راہ میں اس آبلہ پا کو
روتا ہے لپٹ کر وہ تیرے نقشِ قدم سے
ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے
اے جانِ جہاں اب نہ چھپا خود کو تو ہم سے
اک چشم ِ کرم ہم پہ بھی اے خسروِ خوباں
زندہ ہے دل و روح تیرے حسن کے دم سے
تم چھوڑ گئے راہ میں اس آبلہ پا کو
روتا ہے لپٹ کر وہ تیرے نقشِ قدم سے
محوِ جمالِ یار کو فُرصتِ بندگی نہیں
اُس کے حُضور بندگی کُفر ہے بندگی نہیں
عشق کی رسم و راہ کا اس کو شعور ہی نہیں
کُفر کی بارگاہ میں جس کی جبیں جُھکی نہیں
وہ بھی میرے فراق میں میری طرح ہے مضطرب
بچھڑے زمانہ ہو گیا، درد میں کچھ کمی نہیں
تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے
تیرے اس کرم کا بدلہ میری بندگی نہیں ہے
جو نہ جاں پہ کھیل جائے وہ نہ اس طرف کو آئے
کہ دیارِ عاشقی میں رہِ واپسی نہیں ہے
تیرے حسن کی پرستش میرا مشربِ طریقت
یہ ہے دینِ پاک بازاں کوئی کافری نہیں ہے
مِلا ہے کفرِ عشق اُس کی عطا سے
نوازا اس نے ہر غم کی دوا سے
نہیں کچھ دُور جاں سے کُوئے جاناں
فنا ہو جا کبھی پہلے فنا سے
میری دیوانگی پہ ہو نہ حیراں
بہت مِلتی ہے وہ صورت خُدا سے