Showing posts with label ذیشان ساحل. Show all posts
Showing posts with label ذیشان ساحل. Show all posts

Monday, 12 July 2021

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا

 غُبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا

پھر اس کے بعد محبت کا اعتراف کیا

جو وہ نہیں تھا تو میں متفق تھا لوگوں سے

وہ میرے سامنے آیا تو اختلاف کیا

ہر ایک جُرم کی پاتا رہا سزا، لیکن

ہر ایک جُرم زمانے کا میں نے معاف کیا

Tuesday, 11 May 2021

کسی دن تیز بارش میں

 کسی دن تیز بارش میں

اگر ہم بھیگ جائیں تو

رگ و پے میں محبت کو

سمو لینا ضروری ہے

کسی کی یاد میں آنکھیں

بھگو لینا ضروری ہے

Sunday, 11 April 2021

کینسر؛ دلہن گنجی ہے

 کینسر


دلہن گنجی ہے، دلہن گنجی ہے

لڑکیاں تالیاں بجاتے ہوئے بولیں

اور دیر تک زور زور سے ہنستی رہیں

کچھ عورتوں نے انہیں آہستہ سے ڈانٹا

اور دلہن کے پاس جا کے اسے چُپ کرانے لگیں

Saturday, 10 April 2021

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی

 عشق کی دیوانگی مِٹ جائے گی

یا کسی کی زندگی مٹ جائے گی

ختم ہو جائے گا جب قصہ حضور

آپ کی حیرانگی مٹ جائے گی

آپ بھی روئیں گے شاید زارزار

پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جائے گی

Monday, 22 March 2021

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا

 جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا

سفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا

بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سے

اب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا

جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کو

تو مہر و ماہ سے بھی استفادہ کیا کرنا

Saturday, 20 March 2021

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے

 ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے

یہ کہانی مگر ادھوری ہے

ہجر تو خیر اس کا لازم تھا

وصل بھی اب بہت ضروری ہے

میری آنکھوں کے جرم میں شامل

ان نگاہوں کی بے قصوری ہے

Friday, 19 March 2021

خواب جیسی کہیں کہیں شاید

 خواب جیسی کہیں کہیں شاید

زندگی ہے، مگر نہیں شاید

میں اکیلا ہوں، اور لگتا ہے

جیسے تُو ہے ابھی یہیں شاید

جس محبت کا ہے گُماں مجھ کو

اس پہ تجھ کو بھی ہے یقیں شاید

Thursday, 18 March 2021

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں

 یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں

آج ہم اپنے ٹھکانے سے بہت آگے ہیں

کوئی آ کے ہمیں ڈھونڈے گا تو کھو جائے گا

ہم نئے غم میں پرانے سے بہت آگے ہیں

جسم باقی ہے، مگر جاں کو مٹانے والے

روح میں زخم نشانے سے بہت آگے ہیں

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں

 یوں بولی تھی چِڑیا خالی کمرے میں

جیسے کوئی نہیں تھا خالی کمرے میں

ہر پَل میرا رَستہ دیکھا کرتا ہے

جانے کس کا سایہ خالی کمرے میں

کھڑکی کے رَستے سے لایا کرتا ہوں

میں باہر کی دنیا خالی کمرے میں

Wednesday, 17 March 2021

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا

 میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا

جو میں گیا تو پھر کوئی تنہا نہیں گیا

میں چاہتا تھا اس کی نگاہوں سے کھیلنا

لیکن ذرا سی دیر بھی کھیلا نہیں گیا

ممکن نہیں تھا حسن و نظر کا موازنہ

مجھ سے تو اس کو ٹھیک سے دیکھا نہیں گیا

Tuesday, 16 March 2021

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے

 دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے

اس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے

اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرح

وہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے

دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگر

اس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے

Tuesday, 2 February 2021

کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو

 کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو

ختم کر دیتا ہے ہر امید ہر امکان کو

گیت گاتا بھی نہیں گھر کو سجاتا بھی نہیں

اور بدلتا بھی نہیں وہ ساز کو سامان کو

اتنے برسوں کی ریاضت سے جو قائم ہو سکا

آپ سے خطرہ بہت ہے میرے اس ایمان کو