غُبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا
پھر اس کے بعد محبت کا اعتراف کیا
جو وہ نہیں تھا تو میں متفق تھا لوگوں سے
وہ میرے سامنے آیا تو اختلاف کیا
ہر ایک جُرم کی پاتا رہا سزا، لیکن
ہر ایک جُرم زمانے کا میں نے معاف کیا
غُبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا
پھر اس کے بعد محبت کا اعتراف کیا
جو وہ نہیں تھا تو میں متفق تھا لوگوں سے
وہ میرے سامنے آیا تو اختلاف کیا
ہر ایک جُرم کی پاتا رہا سزا، لیکن
ہر ایک جُرم زمانے کا میں نے معاف کیا
کسی دن تیز بارش میں
اگر ہم بھیگ جائیں تو
رگ و پے میں محبت کو
سمو لینا ضروری ہے
کسی کی یاد میں آنکھیں
بھگو لینا ضروری ہے
کینسر
دلہن گنجی ہے، دلہن گنجی ہے
لڑکیاں تالیاں بجاتے ہوئے بولیں
اور دیر تک زور زور سے ہنستی رہیں
کچھ عورتوں نے انہیں آہستہ سے ڈانٹا
اور دلہن کے پاس جا کے اسے چُپ کرانے لگیں
عشق کی دیوانگی مِٹ جائے گی
یا کسی کی زندگی مٹ جائے گی
ختم ہو جائے گا جب قصہ حضور
آپ کی حیرانگی مٹ جائے گی
آپ بھی روئیں گے شاید زارزار
پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جائے گی
جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا
سفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا
بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سے
اب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا
جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کو
تو مہر و ماہ سے بھی استفادہ کیا کرنا
ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے
یہ کہانی مگر ادھوری ہے
ہجر تو خیر اس کا لازم تھا
وصل بھی اب بہت ضروری ہے
میری آنکھوں کے جرم میں شامل
ان نگاہوں کی بے قصوری ہے
خواب جیسی کہیں کہیں شاید
زندگی ہے، مگر نہیں شاید
میں اکیلا ہوں، اور لگتا ہے
جیسے تُو ہے ابھی یہیں شاید
جس محبت کا ہے گُماں مجھ کو
اس پہ تجھ کو بھی ہے یقیں شاید
یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں
آج ہم اپنے ٹھکانے سے بہت آگے ہیں
کوئی آ کے ہمیں ڈھونڈے گا تو کھو جائے گا
ہم نئے غم میں پرانے سے بہت آگے ہیں
جسم باقی ہے، مگر جاں کو مٹانے والے
روح میں زخم نشانے سے بہت آگے ہیں
یوں بولی تھی چِڑیا خالی کمرے میں
جیسے کوئی نہیں تھا خالی کمرے میں
ہر پَل میرا رَستہ دیکھا کرتا ہے
جانے کس کا سایہ خالی کمرے میں
کھڑکی کے رَستے سے لایا کرتا ہوں
میں باہر کی دنیا خالی کمرے میں
میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا
جو میں گیا تو پھر کوئی تنہا نہیں گیا
میں چاہتا تھا اس کی نگاہوں سے کھیلنا
لیکن ذرا سی دیر بھی کھیلا نہیں گیا
ممکن نہیں تھا حسن و نظر کا موازنہ
مجھ سے تو اس کو ٹھیک سے دیکھا نہیں گیا
دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے
اس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے
اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرح
وہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے
دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگر
اس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے
کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو
ختم کر دیتا ہے ہر امید ہر امکان کو
گیت گاتا بھی نہیں گھر کو سجاتا بھی نہیں
اور بدلتا بھی نہیں وہ ساز کو سامان کو
اتنے برسوں کی ریاضت سے جو قائم ہو سکا
آپ سے خطرہ بہت ہے میرے اس ایمان کو