Saturday, 10 April 2021

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی

 عشق کی دیوانگی مِٹ جائے گی

یا کسی کی زندگی مٹ جائے گی

ختم ہو جائے گا جب قصہ حضور

آپ کی حیرانگی مٹ جائے گی

آپ بھی روئیں گے شاید زارزار

پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جائے گی

ایک دن بُجھ جائیں گے یہ مہر و ماہ

یا نظر کی روشنی مٹ جائے گی

یا فنا ہو جائیں گی گلیاں تِری

یا مِری آواز ہی مٹ جائے گی

حسن بھی برباد ہو جائے گا دوست

اور دل کی دلکشی مٹ جائے گی

اس قدر آباد ہو جائیں گے لوگ

حسرت تعمیر ہی مٹ جائے گی


ذیشان ساحل

No comments:

Post a Comment