بشر کے روپ میں پھرتے ہوئے خدا کا دُکھ
کہ جانتا ہوں میں ہاری ہوئی انا کا دکھ
جو جاتے وقت سمیٹا سماعتوں نے تیری
میرے وہ ہونٹ کی لرزش تھی اور صدا کا دکھ
مجھے تو خیر تیری بد دُعا سے کچھ نہ ہُوا
کہ مجھ کو چاٹ گیا تیری بد دُعا کا دکھ
بشر کے روپ میں پھرتے ہوئے خدا کا دُکھ
کہ جانتا ہوں میں ہاری ہوئی انا کا دکھ
جو جاتے وقت سمیٹا سماعتوں نے تیری
میرے وہ ہونٹ کی لرزش تھی اور صدا کا دکھ
مجھے تو خیر تیری بد دُعا سے کچھ نہ ہُوا
کہ مجھ کو چاٹ گیا تیری بد دُعا کا دکھ
میں کہہ رہا ہوں مِرے دوستا! نہیں ہونا
کہ حد سے زیادہ کبھی پارسا نہیں ہونا
وہ مجھ سے بول رہی ہے کہ عشق ہو تجھ کو
میں اس کو بول رہا ہوں؛ کہ جا نہیں ہونا
بغیر فکر جُدا ہو لے اور یہ لکھ لے
تِرے بغیر مجھے مسئلہ نہیں ہونا
تیری سمت ایسے رستے جا رہے ہیں
بنا لاٹھی کے اندھے جا رہے ہیں
کسی نے کوزے کیا کھولے ہیں اپنے
مِرے دریا سمٹتے جا رہے ہیں
تو کیا میں اچھی غزلیں کہہ رہا ہوں
سبھی حیرت سے دیکھے جا رہے ہیں
طویل تھے نہیں جتنے طویل ہوتے گئے
ہمارے چلنے سے رستے طویل ہوتے گئے
بہت ہی سہل لگا تھا تمہارا نام، مگر
تمہارے نام کے ہِجّے طویل ہوتے گئے
ہم ایسے لوگوں سے خُوشیاں کشید ہی نہ ہوئیں
ہم ایسے لوگوں پہ صدمے طویل ہوتے گئے
اُس کی حالت میرے چہرے سے عیاں ہونے کا غم
مجھ کو سہنا پڑ رہا ہے رازداں ہونے کا غم
وقت پر رُخصت ہوئے جو لوگ اچھے رہ گئے
مجھ کو کھائے جا رہا ہے، رفتگاں ہونے کا غم
ایک سا سب کو میسر ہونا پڑتا ہے یہاں
آسماں سے پوچھ لو تم آسماں ہونے کا غم