Showing posts with label مبین دھاریجو. Show all posts
Showing posts with label مبین دھاریجو. Show all posts

Wednesday, 22 May 2024

بشر کے روپ میں پھرتے ہوئے خدا کا دکھ

 بشر کے روپ میں پھرتے ہوئے خدا کا دُکھ

کہ جانتا ہوں میں ہاری ہوئی انا کا دکھ

جو جاتے وقت سمیٹا سماعتوں نے تیری

میرے وہ ہونٹ کی لرزش تھی اور صدا کا دکھ

مجھے تو خیر تیری بد دُعا سے کچھ نہ ہُوا

کہ مجھ کو چاٹ گیا تیری بد دُعا کا دکھ

Saturday, 30 December 2023

میں کہہ رہا ہوں مرے دوستا نہیں ہونا

 میں کہہ رہا ہوں مِرے دوستا! نہیں ہونا

کہ حد سے زیادہ کبھی پارسا نہیں ہونا

وہ مجھ سے بول رہی ہے کہ عشق ہو تجھ کو

میں اس کو بول رہا ہوں؛ کہ جا نہیں ہونا

بغیر فکر جُدا ہو لے اور یہ لکھ لے

تِرے بغیر مجھے مسئلہ نہیں ہونا

Thursday, 7 December 2023

تیری سمت ایسے رستے جا رہے ہیں

 تیری سمت ایسے رستے جا رہے ہیں

بنا لاٹھی کے اندھے جا رہے ہیں

کسی نے کوزے کیا کھولے ہیں اپنے

مِرے دریا سمٹتے جا رہے ہیں

تو کیا میں اچھی غزلیں کہہ رہا ہوں

سبھی حیرت سے دیکھے جا رہے ہیں

Wednesday, 6 December 2023

طویل تھے نہیں جتنے طویل ہوتے گئے

 طویل تھے نہیں جتنے طویل ہوتے گئے

ہمارے چلنے سے رستے طویل ہوتے گئے

بہت ہی سہل لگا تھا تمہارا نام، مگر

تمہارے نام کے ہِجّے طویل ہوتے گئے

ہم ایسے لوگوں سے خُوشیاں کشید ہی نہ ہوئیں

ہم ایسے لوگوں پہ صدمے طویل ہوتے گئے

Monday, 14 February 2022

اس کی حالت میرے چہرے سے عیاں ہونے کا غم

 اُس کی حالت میرے چہرے سے عیاں ہونے کا غم

مجھ کو سہنا پڑ رہا ہے رازداں ہونے کا غم

وقت پر رُخصت ہوئے جو لوگ اچھے رہ گئے

مجھ کو کھائے جا رہا ہے، رفتگاں ہونے کا غم

ایک سا سب کو میسر ہونا پڑتا ہے یہاں

آسماں سے پوچھ لو تم آسماں ہونے کا غم