اپنے سائے کو بھی اسیر بنا
بہتے پانی پہ اک لکیر بنا
صرف خیرات حرف و صوت کی دے
شہر فن کا مجھے امیر بنا
شوخ تتلی ہے گر ہدف پہ تِرے
گُل کے ریشوں سے ایک تیر بنا
اپنے سائے کو بھی اسیر بنا
بہتے پانی پہ اک لکیر بنا
صرف خیرات حرف و صوت کی دے
شہر فن کا مجھے امیر بنا
شوخ تتلی ہے گر ہدف پہ تِرے
گُل کے ریشوں سے ایک تیر بنا
دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے
آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے
جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست
آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے
آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن
ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے
سیاست
وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال
وہ چمک اٹھا خوشی سے چہرۂ حُزن و ملال
اک طرف طبقات میں پیدا ہے بیداری کی موج
دیدنی ہے دوسری جانب سیاست کا کمال
اک طرف جمہور کی طاقت کے چرچے ہیں یہاں
دوسری جانب حکومت کر رہی ہے قیل و قال
ہم کہ ناچار اور کیا کرتے
مان لی ہار اور کیا کرتے
اپنی ہی بات پر مصر تھا وہ
اس سے تکرار اور کیا کرتے
پھوڑنا پڑ گئی جبیں اپنی
پیشِ دیوار اور کیا کرتے
ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے
یہ گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے
عجب موسم ہے یہ انہونیوں کا
نہ ہونا تھا جو، ہوتا جا رہا ہے
غضب ہے جو ستم ڈھائے ہے دل پر
وہی دل میں سموتا جا رہا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جشن آمد رسولﷺ اللہ ہی اللہ
بی بی آمنہؑ کے پھول اللہ ہی اللہ
جب کہ سرکارﷺ تشریف لانے لگے
حُور و غلماں بھی خوشیاں منانے لگے
ہر طرف نُور کی روشنی چھا گئی
مصطفیٰﷺ کیا ملے زندگی مل گئی
غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے
ہوا خُوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے
ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی
کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے
یکایک ہو گیا ہے خوف رُخصت
کہ اب ہرنی شکاری ڈھونڈتی ہے
کم تر نہیں مقام مِرا آفتاب سے
"آتی ہے یہ صدا لحدِ بُو ترابؑ سے"
ہر گھونٹ میں ہو جلوۂ ساقی کا جبکہ عکس
توبہ کریں گے رِند نہ ایسی شراب سے
وہ ظرفِ زُہد کیا ہوا نازاں تھے جس پہ آپ
پوچھے کوئی یہ زاہدِ عزت مآب سے
مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور
کوئی بھی حال پوچھنے آیا نہیں حضور
تعلیم مجھ کو ساری ہی معکوس دی گئی
لیکن میں ایک لفظ بھی بولا نہیں حضور
پتھر بنا دیا ہے مجھے ظلم و جور نے
میں نے خدا کے بارے میں سوچا نہیں حضور
بچھڑا ہر ایک فرد بھرے خاندان کا
یہ مجھ کو ٭شاپ لگ گیا کس بے زبان کا
قدموں تلے تھے جتنے سمندر سرک گئے
اب کیا کروں گا دیکھ کے منہ بادبان کا
میرے وجود کے کوئی معنی نہیں رہے
تیکھا سا ایک تیر ہوں ٹوٹی کمان کا
خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں
اسی باعث ہماری آنکھ عنبر بار گریہ ہے
اٹھا سکتا ہوں ساتون آسمان کا بوجھ میں سر پر
مگر مجھ سے نہیں اٹھتا ہے یہ جو بار گریہ ہے
وطن میں آچ بس آو فغاں کی فصل کٹتی ہے
کلیسا ہو کہ مسجد ہو وہ لالہ زار گریہ ہے
پری تم ہو مری جاں حور تم ہو مہ لقا تم ہو
جہاں میں جتنے ہیں معشوق ان سب سے جدا تم ہو
سراپا ناز ہو لاکھوں میں یکتا دل ربا تم ہو
میں حیراں ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا تم ہو
خدا نے اپنے ہاتھوں سے تمہیں ایسا بنایا ہے
خدا کی شان بھی کہتی ہے ہاں شان خدا تم ہو
زمانہ چھوڑ کر گھر آ گئے ہیں
تِری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں
حقیقت جان لی ہے تیری جب سے
تِرے خوابوں سے باہر آ گئے ہیں
کسی نے بھیجا ہے پیغام مجھ کو
مِری چھت پر کبوتر آ گئے ہیں
بُلاوے
بارہا آئے ہیں
آوازوں کے ساحل سے
مگر میں
یخ بستہ کشتی کی طرح
گُم سُم پڑا ہوں
اجنبی راہگزر سوچتی ہے
کوئی دروازہ کھلے
ہر طرف درد کے لمبے سائے
راستے پھیل گئے دور گئے
دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز
اجنبی راہگزر سوچتی ہے