عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حروف مدح علیؑ کا جہاں قیام نہ تھا
جہان عشق میں ایسا کوئی مقام نہ تھا
عظیم ہونے میں اس کے کوئی کلام نہ تھا
کہ جو غریب نجف تھا، امیر شام نہ تھا
سنا ہے اس کی قیادت میں آئیں تھیں صدیاں
وہ اک ستارہ جو معموم تھا، امام نہ تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حروف مدح علیؑ کا جہاں قیام نہ تھا
جہان عشق میں ایسا کوئی مقام نہ تھا
عظیم ہونے میں اس کے کوئی کلام نہ تھا
کہ جو غریب نجف تھا، امیر شام نہ تھا
سنا ہے اس کی قیادت میں آئیں تھیں صدیاں
وہ اک ستارہ جو معموم تھا، امام نہ تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہزار منبر و محراب ہم کریں روشن
بغیر مدح علی کیا ہوں محفلیں روشن
ولا وہ در ہے جہاں ایسے طاق ہیں روشن
ابد تلک جو دیے سے دیا کریں روشن
اگر نہ جلتے سرو۔ں کے چراغ راہوں میں
نہ منزلیں کبھی ہوتیں نہ سرحدیں روشن
ذرا ادب سے لیا جائے نام پتھر کا
ابھی ہے کعبے کے اندر قیام پتھر کا
نہ جانے کیا دلِ ماموم پر گزر جاتی
خدا نہ کردہ جو ہوتا امام پتھر کا
ہر ایک ہاتھ میں پتھر بلند ہونے تک
پتہ ہی کب تھا کہ کیا ہے نظام پتھر کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھ لو توریت میں انجیل میں قرآن میں
آیتیں ہی آیتیں ہیں سیدہ کی شان میں
صحن میں والشمس ہے اور والضحا دالان میں
دین روشن ہو رہا ہے خانۂ عمران میں
ہم عشیرہ سے چلے ہیں لے کے سامان نجات
اب اسے کھو لیں گے جا کر حشر کے میدان میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آئینہ رکھ کے بر سر صحرا حسینؑ نے
بے چہرگی کو دے دیا چہرہ حسینؑ نے
پڑھ کر نماز عشق ٭فُرادا حسینؑ نے
توحید کو بچا لیا تنہا حسینؑ نے
درکار تھیں ازل کو ابد تک بلندیاں
سو اپنے قد کو سامنے رکھا حسینؑ نے
ایسا تو آسماں پہ بھی سجدہ نہیں ہو ا
جیسا کیا زمین پہ سجدہ حسینؑ نے
قوسین تک ہوئی تھی زیارت رسولؐ کی
قوسین تک بنا دیا رستہ حسینؑ نے
'جن صورتوں پہ زخم تھے جن سیرتوں پہ داغ '
کھل کر کیا انہی پہ تبرا حسینؑ نے
اب تک یزید دیدۂ عبرت نگاہ ہے
مارا ہے ایسا منہ پہ تماچہ حسینؑ نے
نوحے قصیدے منقبتیں مرثیے سلام
بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسینؑ نے
اب مجلس حسین میں آتا وہی تو ہے
رکھا ہے جس کا خلد میں حصہ حسینؑ نے
عباس حیدر زیدی
٭فرادا: الگ، تنہا، اکیلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دامن میں ہے خزینۂ عرفان فاطمہؑ
کتنے امیر ہیں یہ غریبان فاطمہؑ
رکھا تھا آیتوں نے جسے تول تول کر
تھا گھر میں فاطمہؑ کے وہ سامان فاطمہؑ
نان و نمک یہیں سے ملتا ہے خلق کو
گھر ہے نبیﷺ کا خاصۂ خاصان فاطمہؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عجز سے، اعجاز سے، اکرام سے
دے من و سلویٰ مجھے ہر نام سے
جس کی تلچھٹ میں ہو رُوحِ سلسبیل
کر مجھے سیراب ایسے جام سے
طُور سینا، ثور، سِدرہ اور حِرا
اکِ دِیا روشن ہے کتنے نام سے