Showing posts with label عباس زیدی. Show all posts
Showing posts with label عباس زیدی. Show all posts

Tuesday, 6 August 2024

حروف مدح علی کا جہاں قیام نہ تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حروف مدح علیؑ کا جہاں قیام نہ تھا 

جہان عشق میں ایسا کوئی مقام نہ تھا 

عظیم ہونے میں اس کے کوئی کلام نہ تھا 

کہ جو غریب نجف تھا، امیر شام نہ تھا

سنا ہے اس کی قیادت میں آئیں تھیں صدیاں 

وہ اک ستارہ جو معموم تھا، امام نہ تھا 

Monday, 22 July 2024

ہزار منبر و محراب ہم کریں روشن

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہزار منبر و محراب ہم کریں روشن 

بغیر مدح علی کیا ہوں محفلیں روشن

ولا وہ در ہے جہاں ایسے طاق ہیں روشن 

ابد تلک جو دیے سے دیا کریں روشن

اگر نہ جلتے سرو۔ں کے چراغ راہوں میں 

نہ منزلیں کبھی ہوتیں نہ سرحدیں روشن

Sunday, 21 July 2024

ذرا ادب سے لیا جائے نام پتھر کا

 ذرا ادب سے لیا جائے نام پتھر کا 

ابھی ہے کعبے کے اندر قیام پتھر  کا 

نہ جانے کیا دلِ ماموم پر گزر جاتی 

خدا نہ کردہ جو ہوتا امام پتھر کا 

ہر ایک ہاتھ میں پتھر بلند ہونے تک 

پتہ ہی کب تھا کہ کیا ہے نظام پتھر کا 

Saturday, 29 June 2024

دیکھ لو توریت میں انجیل میں قرآن میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دیکھ لو توریت میں انجیل میں قرآن میں 

آیتیں ہی آیتیں ہیں سیدہ کی شان میں 

صحن میں والشمس ہے اور والضحا دالان میں 

دین روشن ہو رہا ہے خانۂ عمران میں 

ہم عشیرہ سے چلے ہیں لے کے سامان نجات 

اب اسے کھو لیں گے جا کر حشر کے میدان میں 

Friday, 28 June 2024

آئینہ رکھ کے بر سر صحرا حسین نے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آئینہ رکھ کے بر سر صحرا حسینؑ نے 

بے چہرگی کو دے دیا چہرہ حسینؑ نے 

 پڑھ کر نماز عشق ٭فُرادا حسینؑ نے 

توحید کو بچا لیا تنہا حسینؑ نے 

درکار تھیں ازل کو ابد تک بلندیاں 

سو اپنے قد کو سامنے رکھا حسینؑ نے 

ایسا تو آسماں  پہ بھی سجدہ نہیں ہو ا 

جیسا کیا زمین پہ سجدہ حسینؑ نے 

قوسین تک ہوئی تھی زیارت رسولؐ کی 

قوسین تک بنا دیا رستہ حسینؑ نے

'جن صورتوں پہ زخم تھے جن سیرتوں پہ داغ '

کھل کر کیا انہی پہ تبرا حسینؑ نے 

اب تک یزید دیدۂ عبرت نگاہ ہے 

مارا ہے ایسا منہ پہ تماچہ حسینؑ نے 

نوحے قصیدے منقبتیں مرثیے سلام 

بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسینؑ نے 

اب مجلس حسین میں آتا وہی تو ہے 

رکھا ہے جس کا خلد میں حصہ حسینؑ نے


عباس حیدر زیدی 

٭فرادا: الگ، تنہا، اکیلے


Thursday, 27 June 2024

دامن میں ہے خزینۂ عرفان فاطمہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دامن میں ہے خزینۂ عرفان فاطمہؑ

کتنے امیر ہیں یہ غریبان فاطمہؑ

رکھا تھا آیتوں نے جسے تول تول کر

تھا گھر میں فاطمہؑ کے وہ سامان فاطمہؑ

نان و نمک یہیں سے ملتا ہے خلق کو

گھر ہے نبیﷺ کا خاصۂ خاصان فاطمہؑ

Wednesday, 26 June 2024

عجز سے اعجاز سے اکرام سے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 


عجز سے، اعجاز سے، اکرام سے 

دے من و سلویٰ مجھے ہر نام سے 

جس کی تلچھٹ میں ہو رُوحِ سلسبیل 

کر مجھے سیراب ایسے جام سے 

طُور سینا، ثور، سِدرہ اور حِرا 

اکِ دِیا روشن ہے کتنے نام سے