Monday, 2 November 2026

اسے محبت تو نہیں کہتے

 میری ایک ہی محبت ہے

جو میرے ساتھ رہتی ہے

جو گُماں میں رہ گئی تھی

اِسے داستاں تو کہتے ہیں

اسے محبت تو نہیں کہتے


میری ایک ہی محبت ہے

جو عُمر بھر کی ساتھی ہے

وہی تو دل کی دھڑکن ہے

جس کے بغیر میں زندہ ہوں

اسے محبت تو نہیں کہتے


میری ایک ہی محبت ہے

جو میری ہمسفر بھی ہے

جس نے میرا ہاتھ تھاما ہے

وہ جس نے ہاتھ چُھڑایا تھا

اسے محبت تو نہیں کہتے


میری ایک ہی محبت ہے

جو مجھ سے پیار کرتی ہے

جو میرے ساتھ چلتی ہے

جو مُڑ کر پھر نہیں آئی

اسے محبت تو نہیں کہتے


میری ایک ہی محبت ہے

جو کانٹوں پر بھی چلتی ہے

جو مُشکلیں بھی سہتی ہے

جس نے سہا نہیں کچھ بھی

اسے محبت تو نہیں کہتے


میری ایک ہی محبت ہے

جو میرے دل میں رہتی ہے

جو مجھے محسوس ہوتی ہے

جو کبھی نظر بھی نہیں آتی

اسے محبت تو نہیں کہتے


میری ایک ہی محبت ہے

میں جس کے بِن ادھُورا ہُوں

جو میرے بِن ادھُوری ہے

جو ادھُورا چھوڑ جائے پھر

اسے محبت تو نہیں کہتے


میاں وقارالاسلام

No comments:

Post a Comment