نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہے
گل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہے
زخم دل کھل اٹھے ہنستے ہوئے پھولوں کی طرح
ایک لمحے کو جہاں باد صبا ٹھہری ہے
موت کو کہئے علاج غم ہستی، لیکن
زندگی کون سے جرموں کی سزا ٹھہری ہے
نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہے
گل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہے
زخم دل کھل اٹھے ہنستے ہوئے پھولوں کی طرح
ایک لمحے کو جہاں باد صبا ٹھہری ہے
موت کو کہئے علاج غم ہستی، لیکن
زندگی کون سے جرموں کی سزا ٹھہری ہے
کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیں
اب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیں
عشق کہتے ہیں کسے حسن ہے کیا کچھ بھی نہیں
میری آنکھیں تری صورت کے سوا کچھ بھی نہیں
کب سے ویران پڑی ہے مرے دل کی دنیا
کوئی نغمہ کسی پائل کی صدا کچھ بھی نہیں
کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے
غم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسے
لب و عارض کے تقاضوں کو بھلا کر یارو
دور آ پہنچے ہیں اب لوٹ کے جائیں کیسے
ان گِنت جام پیئے ذلت و رُسوائی کے
زندگی! اور تِرے ناز اٹھائیں کیسے
دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیں
یہ سوچنا پڑا ہے کہ اپنا کسے کہیں
یہ شور انقلاب، یہ ناقوس، یہ اذاں
ہنگامہ کون سا ہے، تماشہ کسے کہیں
رہبانیت کا جسم سے فسطائیت کی روح
کس کو رفیق خون کا پیاسا کسے کہیں
ہجومِ یاس میں جینا بھی اک عذاب ہُوا
یہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہوا
چھُپا ہوا ہے جو چہرہ حیا کے دامن میں
نہ کوئی آئینہ اس حُسن کا جواب ہوا
بہم اُلجھتے رہے شیخ و برہمن اب تک
جو ہم اُٹھے تو زمانے میں انقلاب ہوا
دلبر کہا،۔ رفیق کہا،۔ چارہ گر کہا
جو کچھ بھی تم کو ہم نے کہا سوچ کر کہا
وہ تم کہ ہم کو آج بھی مخلص نہ کہہ سکے
اور ہم نے ساری عمر تمہیں معتبر کہا
یہ رونقیں جہان کی منسوب تم سے کیں
پھر ان تجلیوں کو حریمِ نظر کہا