Showing posts with label بختیار ضیا. Show all posts
Showing posts with label بختیار ضیا. Show all posts

Thursday, 20 May 2021

نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہے

 نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہے

گل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہے

زخم دل کھل اٹھے ہنستے ہوئے پھولوں کی طرح

ایک لمحے کو جہاں باد صبا ٹھہری ہے

موت کو کہئے علاج غم ہستی، لیکن

زندگی کون سے جرموں کی سزا ٹھہری ہے

Tuesday, 18 May 2021

کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیں

 کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیں

اب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیں

عشق کہتے ہیں کسے حسن ہے کیا کچھ بھی نہیں

میری آنکھیں تری صورت کے سوا کچھ بھی نہیں

کب سے ویران پڑی ہے مرے دل کی دنیا

کوئی نغمہ کسی پائل کی صدا کچھ بھی نہیں

Sunday, 16 May 2021

کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے

 کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے

غم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسے

لب و عارض کے تقاضوں کو بھلا کر یارو

دور آ پہنچے ہیں اب لوٹ کے جائیں کیسے

ان گِنت جام پیئے ذلت و رُسوائی کے

زندگی! اور تِرے ناز اٹھائیں کیسے

دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیں

 دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیں

یہ سوچنا پڑا ہے کہ اپنا کسے کہیں

یہ شور انقلاب، یہ ناقوس، یہ اذاں

ہنگامہ کون سا ہے، تماشہ کسے کہیں

رہبانیت کا جسم سے فسطائیت کی روح

کس کو رفیق خون کا پیاسا کسے کہیں

Tuesday, 11 May 2021

ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوا

 ہجومِ یاس میں جینا بھی اک عذاب ہُوا

یہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہوا

چھُپا ہوا ہے جو چہرہ حیا کے دامن میں

نہ کوئی آئینہ اس حُسن کا جواب ہوا

بہم اُلجھتے رہے شیخ و برہمن اب تک

جو ہم اُٹھے تو زمانے میں انقلاب ہوا

Monday, 10 May 2021

دلبر کہا رفیق کہا چارہ گر کہا

 دلبر کہا،۔ رفیق کہا،۔ چارہ گر کہا

جو کچھ بھی تم کو ہم نے کہا سوچ کر کہا

وہ تم کہ ہم کو آج بھی مخلص نہ کہہ سکے

اور ہم نے ساری عمر تمہیں معتبر کہا

یہ رونقیں جہان کی منسوب تم سے کیں

پھر ان تجلیوں کو حریمِ نظر کہا